باڈی لائن سیریز سے جیلی بین تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں شکست سے پہلے انگلینڈ کے چند کھلاڑیوں نے جب بھارتی کھلاڑی ظہیر خان پر بیٹنگ کرتے وقت ’جیلی بین‘ پھینک کر ان کی توجہ ہٹانے کوشش کی تو میرے لیے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں تھی۔ کرکٹ کی تاریخ پر اگر نظر دوڑائی جائے تو انگلش ٹیم اس قسم کے واقعات میں سرِفہرست رہی ہے، خاص کر اس وقت جب شکست کا سامنا ہو یا وہ شکست خورد ہ ہو چکے ہوں۔ انیس سو بتیس میں آسٹریلیا کے ریکارڈ بریکنگ بیٹسمین ڈان بریڈمین کے خلاف جب انگلینڈ کے بالروں کو خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تو انگلینڈ کے کپتان ڈگلس جارڈائن نے اپنے بالروں کو ہدایت کی کہ وہ آسٹریلیا کے بریڈمین کے تیز رفتاری سے رن بنانے کو پھر بھی ہیرلڈ لاروڈ جیسے بالر نہ روک سکے۔ اس سیریز میں بدمزگی اس قدر بڑھی کہ سفارتی تعلقات ختم ہونے خدشہ ہو گیا۔ اس باڈی لائن سیریز پر اب تک کتابیں لکھی جاتی ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ انیس سو چھپن میں جب ایم سی سی کی ٹیم ڈونلڈ کار کی قیادت میں پاکستان گئی اور پشاور ٹیسٹ کے دوران جب اسے شکست کا سامنا ہوا تو ایک رات انگلینڈ کے چند کھلاڑیوں نے پاکستانی امپائر ادریس بیگ کو اپنے کمرے میں زبردستی لے جانے کے بعد ان پر نہ صرف بالٹی بھر کر پانی پھینکا بلکہ انہیں زدوکوب بھی کیا۔ یہ واقعہ اتنا سنگین بن گیا کہ حکومتِ پاکستان نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہدایت کر دی کہ اگر ایم سی سی کے کپتان ڈانلڈ کار تحریری طور پر معافی نہیں مانگتے تو پاکستان سے انہیں ’ڈی پورٹ‘ کر دیا جائے۔ نہ صرف انگلینڈ کے کپتان نے معافی نامہ لکھ کر دیا بلکہ ایم سی سی کے صدر لارڈ الیگزنڈر آف تیونس نے بھی پاکستان کے سربراہ جنرل اسکندر مرزا کو معافی کا خط لکھا۔
اسی طرح انیس سو ستاسی میں انگلینڈ کی ٹیم جب لاہور میں پہلا ٹیسٹ ہار گئی تو فیصل آباد میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میں امپائر شکور رانا سے برطانوی کپتان مائیک گیٹنگ نے جھگڑا مول لے لیا۔ شکور رانا نےگیٹنگ کو تنبیہ کی تھی کہ وہ اس وقت کریز پر موجود پاکستانی بلے باز سلیم ملک کو بتائے بغیر فیلڈر کو ان کے پیچھے سے نہ ہٹائیں۔ کپتان اور امپائر دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف بد زبانی شروع کردی اور نہ صرف دورہ خطرے میں پڑ گیا بلکہ اس تنازعے میں ایک دن کا کھیل بھی ضائع ہو گیا۔ اس تلخی کے بعد انگلینڈ کی ٹیم نے اٹھارہ سال تک پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔گزشتہ برس بھی اوول کے ٹیسٹ میں جب انگلینڈ کو پاکستان کے خلاف شکست کا سامنا تھا تو پاکستانی بالروں کو انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا۔ اب جبکہ جمعرات سے اوول میں انگلینڈ بھارت سیریز کا فیصلہ کن ٹیسٹ شروع ہونے جا رہا ہے تو ماضی کے انہی واقعات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر انگلینڈ پر ہوں گی اور انگلش ٹیم کو اس حوالے سے نہایت محتاط رہنا ہو گا۔ | اسی بارے میں اوول کے ٹیسٹ میں جیت یا ہار؟16 August, 2006 | کھیل ’وہ کرکٹر جنہیں گھٹنے لے بیٹھے‘03 June, 2006 | کھیل دوسرے ٹیسٹ میں بھی چوٹوں کا غلبہ26 July, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||