پاکستانی کرکٹرز کے ڈوپ ٹیسٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے اعلان کردہ ممکنہ پاکستانی کھلاڑیوں کے ڈوپ ٹیسٹ کے لیے یورین سمپلز جمع کرنے کا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔ اب یہ تمام سمپلز ملائشین لیبارٹری میں بھیجے جائیں گے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کیمپ کے ستائیس کھلاڑیوں نے جن میں ڈوپ ٹیسٹ تنازعہ کے اہم کردار شعیب اختر اور محمد آصف بھی شامل ہیں، پیر اور منگل کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل کمیشن کے ڈاکٹر سہیل سلیم کی نگرانی میں یورین سمپلز جمع کرا دیے۔ ممکنہ تیس کھلاڑیوں میں سے تین یونس خان، دانش کنیریا اور یاسرعرفات ان دنوں انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے میں مصروف ہیں اور ان کے نمونے تاحال حاصل نہیں کیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر سہیل کا کہنا تھا یہ مشکل کام ہے۔ تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی اور صرف اتنا کہا کہ تینوں کے بارے میں آپ کو چند روز میں اچھی خبر ملے گی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ماضی کے تلخ تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کے اعلان سے قبل ممکنہ کرکٹرز کے ڈوپ ٹیسٹ کے نتائج حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ سال پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے کرکٹرز کے ڈوپ ٹیسٹ کے نتائج اس وقت موصول ہوئے تھے جب وہ چیمپئنز ٹرافی کے لئے ٹیم کا اعلان کر چکا تھا اور اس ٹیم کے دو ارکان شعیب اختر اور محمد آصف کے مثبت ڈوپ ٹیسٹ کے نتیجے میں بورڈ کو ان دونوں بولرز کو وطن واپس بلانا پڑا تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب اختر اور محمد آصف کو اپنے قائم کردہ کمیشن کے ذریعے ڈوپنگ کا مرتکب ہونے کی پاداش میں دو اور ایک سال کی پابندی کی سزا دی تھی لیکن بعد میں بورڈ ہی کے قائم کردہ اپیل ٹریبونل نے دونوں بولرز کو بری کردیا تھا۔ یہ فیصلہ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی( واڈا ) کے لئے ناقابل قبول تھا جس نے اس فیصلے کو کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں چیلنج کیا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ یہ عدالتی جنگ جیت گیا۔ شعیب اختر اور محمد آصف ورلڈ کپ کے لئے اعلان کردہ ٹیم میں بھی شامل تھے لیکن ٹیم کی ویسٹ انڈیز روانگی کے وقت پاکستان کرکٹ بورڈ نے دونوں بولرز کو یہ کہہ کر دستبردار کرا لیا تھا کہ وہ فٹ نہیں ہیں جس نے ان قیاس آرائیوں کو جنم دیا تھا کہ بورڈ نے فٹنس نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ ممنوعہ ادویات کا اثر بدستور دونوں بولرز کے جسم میں موجود ہے، انہیں ورلڈ کپ کھیلنے سے دور رکھا ہے۔ واضح رہے کہ آئی سی سی کے تمام ٹورنامنٹس میں ڈوپ ٹیسٹ لازمی ہیں۔ | اسی بارے میں کراچی میں کرکٹ کیمپ شروع27 July, 2007 | کھیل ٹونٹی ٹونٹی سے پہلے ڈوپنگ ٹیسٹ23 July, 2007 | کھیل ٹیم کا بھی فائدہ، میرا بھی: آصف14 July, 2007 | کھیل کھلاڑیوں کے ڈوپ ٹیسٹ کا فیصلہ 14 July, 2007 | کھیل میں پوری طرح فٹ ہوں:شعیب اختر14 July, 2007 | کھیل ’ڈوپنگ کا شکار نائب کپتان‘23 May, 2007 | کھیل شعیب، آصف: واڈا کی اپیل مسترد02 July, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||