ٹونٹی ٹونٹی سے پہلے ڈوپنگ ٹیسٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کے اعلان سے پہلے ہی پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے ڈوب ٹیسٹ کی رپورٹس آ جائیں گی۔ اتوار کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں شعیب ملک الیون اور سلمان بٹ الیون کے درمیان ٹونٹی ٹونٹی پریکٹس میچ کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ پاکستان کی ڈوپنگ پالیسی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ڈوپنگ پالیسی پر مبنی نہیں بلکہ پی سی بی نے بہت پہلے ہی اپنی ڈوپنگ پالیسی بنا لی تھی جس کے تحت ہر بڑے ٹورنامنٹ سے پہلے تمام کھلاڑیوں کے ڈوب ٹیسٹ کروا لیے جاتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے گزشتہ برس بھارت میں ہونے والی آئی سی سی چمپئنز ٹرافی سے پہلے بھی تمام کھلاڑیوں کے ڈوب ٹیسٹ کروائے تھے لیکن ان ٹیسٹس کی رپورٹ کھلاڑیوں کے بھارت پہنچ جانے کے بعد ملی تھی جس میں دو فاسٹ بالروں شعیب اختر اور محمد آصف کے ڈوب ٹیسٹ مثبت آئے تھے اور انہیں واپس بلوانا پڑا تھا۔ اس واقعے کے بعد پی سی بی کا رویہ اس ضمن میں کافی محتاط ہو گیا ہے اور اسی لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا ہے کہ انہوں نے پی سی بی کے ڈاکٹرز کو ہدایات دیں ہیں کہ ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کے اعلان سے پہلے ہر کھلاڑی کے ڈوب ٹیسٹس کی رپورٹ آ جانی چاہیں۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کی تیاری کافی اچھی ہے اور یہ ٹونٹی ٹونٹی پریکٹس میچز ورلڈ کپ کی تیاری کا ہی حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میچز میں شعیب اختر غیر معمولی بالنگ کروا رہے ہیں جو ٹیم کے لیے بہت خوش آئند بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کی فیلڈنگ کا معیار بھی بہتر ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں 26 جولائی سے شروع ہونے والے کیمپ میں بھی ان پریکٹس میچز کا سلسلہ جاری رہے گا اور ان سے سلیکشن کمیٹی کو ٹیم بنانے میں آسانی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ کینیا کرکٹ بورڈ ورلڈ کپ سے پہلے ایک سہ ملکی یا چار ملکی ٹونٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کروانا چاہتا ہے اور ان کی جانب سے پی سی بی کو باقائدہ درخواست موصول ہو چکی ہے جس کا ہم نے مثبت جواب دیا ہے تاکہ ورلڈ کپ سے پہلے کھلاڑیوں کو پریکٹس میچز مل جائیں۔ ملک میں ہونے والے حالیہ واقعات کے بعد پاکستان میں آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں کی آمد کے کتنے امکانات ہیں اس ضمن میں پی سی بی کے چئرمین کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا سےسیکیورٹی کا جائزہ لینے کے لیے آنے والا وفد مطمئن لوٹا ہے وہ واپس پہنچ کر کیا رپورٹ دے گا اس کے بارے میں تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا تو یہی مؤقف ہے کہ پاکستان کرکٹ کھیلنے کے لیے 100 فیصد محفوظ ملک ہے ابھی تک کسی ملک نے ہمیں کوئی ایسی بات نہیں کی اور جنوبی افریقہ نے مکمل یقین دہانی کروا رکھی ہے توقع ہے کہ یہ سیریز شیڈیول کے مطابق ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ جیف لاسن اپنے ساتھ ٹیم لے کر آئیں گے جن میں ٹرینر اور فزیو تھراپسٹ ہوں گے اور لاسن کے آنے کے بعد اگر وہ چاہیں گے تو کھلاڑیوں کو سمجھنے کے لیے ورلڈ کپ سے پہلے ایک مختصر کیمپ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ اپنی جگہ لیکن ہماری ترجیح ٹیم کی تعمیر نو ہے جس میں پہلے ٹیسٹ میچز کے لیے ٹیم کی تیاری ساتھ ہی ون ڈے کے لیے اور پھر ٹونٹی ٹونٹی کے لیے ٹیم کی ترجیحات ہوں گی۔ |
اسی بارے میں ورلڈ کپ کے لیے ڈوپ ٹیسٹ17 February, 2007 | کھیل شعیب اپیل کریں گے: ڈاکٹر نعمان02 November, 2006 | کھیل شعیب، آصف کے ٹیسٹوں کی مخالفت17 January, 2007 | کھیل معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا، رمیز24 December, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||