کیون پیٹرسن کا کپتانی سے انکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ کے سرکردہ بیٹسمین کیون پیٹرسن نے کہا ہے کہ وہ قومی ون ڈے ٹیم کی کپتانی کے امیدوار نہیں ہیں۔ مائیکل وان کے استعفے کے بعد انگلینڈ کو ایک روزہ کرکٹ کے لیے نئے کپتان کی ضرورت ہے، لیکن پیٹرسن کہتے ہیں کہ’ ابھی وقت نہیں آیا کہ میں یہ ذمہ داری سنبھالوں۔‘ ’میں نے اس بارے میں بہت سنجیدگی سے سوچا ہے اور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ میرے لیے ابھی کپتانی سنبھالنا صحیح نہیں ہوگا۔‘ انگلینڈ کے نئے کپتان کا اعلان جمعہ کو کیا جائے گا اور آل راؤنڈر پال کالنگوڈ کپتانی کی دوڑ میں سب سے آگے بتائے جاتے ہیں۔ پیٹرسن ایک روزہ کرکٹ میں دنیا کے بہترین بلے بازوں کی فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔ سابق فاسٹ بالر ڈیرن گوف اور سابق اوپنر جیف بائیکاٹ سمیت بہت سے لیکن پیٹرسن کہتے ہیں کہ ابھی تک انہوں نے صرف تقریباً پچاس ون ڈے اور بیس،تیس ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں۔ ’اگر مستقبل میں مجھے یہ ذمہ داری سونپی گئی تو میرے لیے یہ ایک بڑا اعزاز ہوگا لیکن میرے کیرئر کے اس مرحلےپر نہیں۔ ’جس کسی کو کپتانی سونپی جائے گی، اسے میری مکمل حمایت حاصل ہوگی، انگلینڈ کی کرکٹ کے لیے یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے، اور ہم مستقبل کے لیے بہت پر امید ہیں۔‘ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا انگلینڈ کی سلیکشن کمیٹی نے کپتانی کے بارے میں ان سے بات کی ہے، پیٹرسن نےکہا کہ اس بات کا ذکر ہوا تھا اور میں نے انہیں اپنا جواب دے دیا ہے۔ انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ انگلینڈ کی کرکٹ میں ایک روزہ کھیل کو زیادہ توجہ دی جائے گی۔ ’ہم نے ایک روزہ کرکٹ میں زیادہ اعزازات نہیں جیتے ہیں، اور ایک روزہ کھیل عدم توجہی کا شکار ہوا ہے۔ یہاں صرف ٹیسٹ کرکٹ کی ہی بات ہوتی ہے۔‘ |
اسی بارے میں لندن میں ایشز کی فتح کا جشن13 September, 2005 | کھیل کرکٹ کوچ، لاسن بھی امیدوار19 June, 2007 | کھیل پاکستان کی کوچنگ چیلنج: واٹمور21 June, 2007 | کھیل کرکٹ اور برطانوی نژاد پاکستانی31 August, 2006 | Cricket | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||