لندن میں ایشز کی فتح کا جشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹریفالگر سکوائر پر ہونے والی تقریب میں انگلینڈ کی فاتح ٹیم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا گیا۔ لندن کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد فاتح ٹیم کو داد دینے کے لیے ٹریفالگر سکوائر پر جمع ہوئے تھے۔ مائیکل وون کی سربراہی میں انگلینڈ کی ٹیم جیسے ہی ٹریفالگر سکوائر پہنچی تو وہاں موجود کرکٹ کے شائقین کے ان کا زبردست استقبال کیا۔ ٹیم کے ارکان بعد میں 10 ڈاؤننگ سٹریٹ گئے جہاں وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے ان کے اعزاز میں ایک استقبالیے کا اہتمام کیا تھا۔ اس کے بعد کھلاڑی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ روانہ ہو گئے جہاں تاریخی راکھ دان باقاعدہ طور ان کے حوالے کر دیا جائے گا۔ سن انیس سو ستاسی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم نے آسٹریلیا کو ایک سیریز میں شکست دی ہو۔
اس موقع پر انگلینڈ کے کپتان مائیکل نے کہا کہ انگلینڈ کی فتح ایک تاریک رات کا خاتمہ ہے۔ ’ہم صحیح طور پر انگریزی انداز میں جشن منا رہے ہیں اور یہ بالکل ہی ناقابل یقین بات ہے۔‘ ’ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ مینیجمنٹ کا کردار بھی زبردست رہا ہے لیکن کرکٹ کے شائقین نے ثابت کیا ہے کہ وہ سب سے بہتر ہیں۔‘ اس سے پہلے جب انگلینڈ کے کھلاڑی دو بسوں میں سوار ہو ٹریفالگر سکوائر پہنچے تو وہاں موجود ہزاروں افراد نے جھنڈے ہلا کر ان کا استقبال کیا۔ ایشز سیریز کے آخری ٹیسٹ میں مین آف دی میچ کا ایوارڈ حاصل کرنے والے کیون پیئٹرسن بار بار بس کے نیچے موجود مجمع پر شیمین کا چھڑکاؤ کرتے رہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||