18 سال بعد: ایشز ٹرافی انگلینڈ آگئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیر کی شام اٹھارہ سال کے طویل انتظار کے بعد انگلینڈ نے آسٹریلیا سے ایشز ٹرافی واپس لے لی جس کے ساتھ ہی پورے ملک میں کم و بیش ہر جگہ جشن کا آغاز ہوگیا۔ انگلینڈ نے آخری مرتبہ انیس سو ستاسی میں ایشز جیتی تھی جس کے بعد اٹھارہ سال تک یہ ٹرآفی آسٹریلیا کی ٹیم ہی جیتتی رہی مگر پیر کی شام تماشائیوں سے کچھا کچھ بھرے ہوئے اوول کے میدان میں جونہی امپائرز نے سیریز کے پانچویں اور آخری میچ کے برابری پر ختم ہونے کا اعلان کیا، پورے انگلینڈ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ جب انگلینڈ کے کپتان مائیکل وان نے ایشز ٹرافی ہوا میں بلند کی تو اوول کے کرکٹ گراؤنڈ میں ہر طرف تالیوں کی گونج سنائی دے رہی تھی اور سٹینڈز میں خوشی کے گیت گائے جائے رہے تھے۔ پانچ میچوں کی سیریز میں انگلینڈ کو آخری میچ سے قبل دو ایک سے برتری حاصل تھی اور آسٹریلیا سے ٹرافی واپس لینے کے لیے اسے یہ میچ جیتنا تھا یا ڈرا کرنا تھا۔ گزشتہ روز ہی سے مبصرین نے کہنا شروع کر دیا تھا کہ انگلینڈ یہ میچ برابر کر لے گا لہذا پیر کی شام لوگ دفتروں سے جلدی گھروں یا شراب خانوں کی طرف چلے گئے تاکہ وہ میچ کے آخری لمحات اور انگلینڈ کی ٹیم کو ایشز واپس لیتے ہوئے دیکھ سکیں۔ اس میچ کے برابر ہونے میں جہاں بارش اور کم روشنی نے کچھ کردار ادا کیا وہاں آخری دن کے کھیل میں کیون پیٹرسن کی شاندار سنچری نے انہیں اوول کا ہیرو بنا دیا۔ ایک موقع پر جب شین وارن اور میگراتھ کی بالنگ کے سامنے انگلینڈ کے کھلاڑی جم کر نہ کھیل سکے تو ایسا لگتا تھا کہ اگر آسٹریلیا نے پیٹرسن کو آؤٹ کر لیا تو شاید وہ یہ میچ جیت جائے گا اور یوں ایشز ٹرافی اسی کے پاس رہے گی۔
تاہم آسٹریلوی ٹیم نے ان کے کیچ ڈراپ کر کے انہیں دو موقع فراہم کیے جس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے سات چھکوں اور پندرہ چوکوں کی مدد سے ایک سو اٹھاون رنز کی خوبصورت اننگز کھیلی۔ایشلے جائلز نے ان کا ساتھ دیتے ہوئے انسٹھ رنز بنائے اور انگلینڈ کی پوری ٹیم دوسری اننگز میں تین سو پینتیس رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ آسٹریلیا کی ٹیم دوسری اننگز کھیلنے کے لیے میدان میں اتری لیکن صرف چار گیندیں ہی ہوئی تھیں کہ ایمپائرز نے خراب روشنی کے باعث میچ برابری پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اور یوں یہ سیریز جسے اکثر مبصرین بہترین سیریز قرار دے رہے ہیں اپنے اختتام کو پہنچی۔ انگلینڈ کی طرف سے اینڈریو فلنٹاف کو جبکہ آسٹریلیا کی جانب سے شین وارن کو مین آف دی سیریز قرار دیا گیا۔ ملکۂ برطانیہ اور وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے میچ کے بعد انگلینڈ کے کپتان مائیکل وان اور ان کی ٹیم کو مبارکباد کے پیغامات بھیجے۔ آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم جان ہاورڈ نے بھی انگلینڈ کی ٹیم کو ایشز جیتنے پر مبارکباد دی۔ منگل کو انگلینڈ کی ٹیم فتح کی خوشی میں لندن کے مشہور ٹریفالگر سکوائر جائے گی۔ میچ کے آخری دن انگلینڈ کی ٹیم مشکل میں پھنس گئی تھی کیونکہ لنچ سے قبل ہی اس کے چار کھلاڑی آؤٹ ہوگئے تھے۔ اس وقت انگلینڈ کی برتری محض ایک سو تینتیس رنز کی تھی۔ لیکن اس موقع پر پیٹرسن نے بہترین اننگز کھیلتے ہوئے انگلینڈ کو مشکل سے نکالا۔ ان کی شاندار کارکردگی کے بناء پر انہیں پانچویں ٹیسٹ میں مین آف دی میچ کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔ شین وارن نے اس میچ کی دوسری اننگز میں ایک سو چوبیس رنز کے عوض چھ وکٹیں لیں۔ اس ٹیسٹ میں ان کی وکٹوں کی تعداد بارہ رہی۔شین وارن وہ واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے انگلینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے ایک سو بہتر وکٹیں حاصل کی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||