ایشز: انگلینڈ کی تاریخی فتح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایشز سیریز کا آخری ٹیسٹ برابر کرکے انگلینڈ نےاٹھارہ سال بعد ایشز ٹرافی حاصل کر لی ہے۔ انگلینڈ نے آخری مرتبہ انیس سو ستاسی میں یہ ٹرافی حاصل کی تھی۔ میچ کا آخری دن انتہائی دلچسپ اور سنسی خیز ثابت ہوا جب دن کے آغاز میں انگلینڈ نے پانچ وکٹیں ڈیڑھ سو سے کم سکور پر گنوا دیں۔ انگلینڈ کے پہلے پانچ بلے باز آسٹریلیا کے مایہ ناز سپنر شین وان کی سپن بالنگ اور میگرا کی تیز رفتار گیندوں کا مقابلہ نہ کر سکے۔ فلنٹاف جن سے بہت امیدیں وابستہ تھیں صرف آٹھ رن بناکے آوٹ ہو گئے۔ انہیں شین وان نے اپنی ہی گیند پر کیچ آؤٹ کیا۔ آسٹریلیا کے تمام بالر اپنے تمام تر تجربے اور مہارت کے باوجود پیٹرسن کو آؤٹ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ پیٹرسن آسٹریلیا کے اس میچ کو جیت کر سیریز برابر کرنے کے ارادوں میں حائل ہوگئے۔ ایک ایسے موقعہ پر جب آسٹریلیا اگر پیٹرسن کو آوٹ کرلیتا تو شاید وہ سیریز برابر کرنے میں کامیاب ہو جاتا شین وان نے پیٹرسن کا ایک انتہائی آسان کیچ چھوڑ دیا۔ اس کے بعد پیٹرسن نے زبردست بیٹنگ سے اوول میں موجود ہزاروں شائقیں کو خوب محضوض کیا اور اپنی اننگز میں سات چھکے اور پندرہ چوکے لگائے۔ پیٹرسن کو اوول کے میدان پر موجود ہزاروں شائقیں سے ہر ہر شاٹ پر داد ملتی رہی۔ ایشیز سیریز کو جیتنے کا اٹھارہ برس سے انتظار کرنے والے انگلینڈ کے کرکٹ کے شائقین نے بہت پہلے ہی جشن منانا شروع کر دیا۔ انگلینڈ کا مجموعی سکور جب تین سو ہندسہ عبور کر گیا تو اس میچ کا برابر ہونا تقریباً یقینی ہو گیا تھا اور اس کے ساتھ ہی شائقین نے شیمپین کی بوتلیں کھولنا شروع کر دی تھیں۔ تاہم انگلینڈ کی ٹیم مائیکل پیٹرسن کے شاندار ایک سو اٹھاون رن کی بدولت تین سو پینتیس رن بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ اس فیصلہ کن اننگز میں ایشلے جائلز نے بھی اپنی نصف سنچری بنائی۔
پیٹرسن کو اس تاریخی کارکردگی پر مین آف میچ قرار دیا گیا۔ اینڈریو فلنٹاف کو انگلینڈ کی طرف سے آسٹریلیا کی طرف سے شین وان کو مین آف دی سیریز کا اعزاز دیا گیا۔ فلنٹاف نے پوری سیریز انگلینڈ نے دن کا آغاز ایک وکٹ پر چونتیس سکور کے ساتھ کیا۔ سڑسٹھ کے سکور پر مکگرا نے مسلسل دو گیندوں پر مائیکل وان اور آئن بیل کو آؤٹ کر کے میچ دلچسپ بنا دیا۔ اس کے بعد شین وارن اور نے فلنٹاف اور ٹریسکوتھک کی قیمتی وکٹیں حاصل کر کے آسٹریلیا کا پلڑا بھاری کر دیا۔ آسٹریلیا کے مایہ ناز بالر شین وان نے اس میچ میں بارہ ووکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے انتہائی خوبصورت اور بعض اوقات حیرت انگیز طور پر بال کو ٹرن کر کے شائقین |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||