BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 August, 2006, 15:35 GMT 20:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرکٹ اور برطانوی نژاد پاکستانی
عدیل راشد
یارک شائر سے تعلق رکھنے والے عدیل راشد کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ کے لیے کھیلنا پسند کریں گے
1990 میں لاس اینجلس ٹائمز کے ساتھ بات چیت میں کنزرویٹو رکنِ اسمبلی نارمن تیبت نے یہ سوال اٹھا تھا برطانوی نژاد ایشیائی شائقین کی وفاداریاں کس کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے پوچھا تھا کہ ’برطانوی نژاد ایشیائی آبادی کی ایک بڑی تعداد کرکٹ ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ وہ کس کی جیت سے خوش ہوتے ہیں؟ یہ ایک دلچسپ امتحان ہے۔ کیا وہ آج بھی اپنے ماضی سے جڑے ہوئے ہیں؟‘

تارکینِ وطن کی پہلی نسل کے لیے کرکٹ کے کھیل میں برطانیہ کی حمایت کرنا ممکن نہ تھا لیکن ریڈیو فور کے ایک پروگرام کی تحقیق کے مطابق برطانیہ میں پیدا ہونے والی ایشیائی نسل اس مسئلے پر مختلف سوچ رکھتی ہے۔

براڈکاسٹر اور لکھاری سرفراز منصور نے برطانیہ میں پاکستان کی چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں اس بات کا تجزیہ کیا کہ کیا نارمن تیبت کا اٹھایا ہوا سوال آج سولہ سال گزرنے کے بعد بھی اہم ہے۔

منصور پاکستانی ٹیم کے ساتھ لندن، مانچیسٹر، لیڈز اور مانگھم ملز گئے اور وہاں انہوں نے برطانوی نژاد پاکستانیوں کی وفاداریوں کا تجزیہ کیا۔

سرفراز منصور نے بی بی سی سپورٹس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا یہ خیال تھا کہ برطانوی نژاد پاکستانی بھرپور طریقے سے پاکستان کی حمایت کریں گے اور میں یہ امید نہیں کر رہا تھا کہ ان میں سے اکثریت برطانیہ کی حمایت کر رہی ہوگی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میری ملاقات ایک 40 سالہ وکیل ہوئی جنہوں نے مجھے 1980 میں ہونے والے پاکستان اور برطانیہ کے کھیل کے بارے میں بتایا کہ اس وقت نسل پرستی بہت زیادہ تھی۔ اور جب میں نے ان سے ان کے بچوں کے بارے میں پوچھا کہ وہ کھیل میں کس کی طرف داری کرتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ان کے بچوں نے فٹ بال اور کرکٹ کے میچوں میں برطانیہ کی حمایت کی ہے‘۔

سرفراز منصور نے بتایا کہ ’جن لوگوں سے میری بات ہوئی ان میں کئی ایسے لوگ تھے جو پاکستان کے بہت گہرے اور محب الوطن شائقین ہیں لیکن ان کا یہ خیال ہے کہ ان کے بچے پاکستان کی بجائے برطانیہ کے لیے کھیلنا پسند کریں گے‘۔

فٹ بال کے بارے میں ان لوگوں کے خیالات مختلف ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ برطانیہ کی حمایت کرنے سے ان کی اصل پہچان متاثر نہیں ہو گی۔

پاکستانی شائقین فٹ بال میں برطانیہ کو سپورٹ کرتے ہیں

پاکستان میں اعلیٰ پائے کی فٹ بل نہیں کھیلی جاتی اس لیے فٹ بال میں برطانیہ کی حمایت کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن کرکٹ ان چند کھیلوں میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے پاکستانی نژاد برطانوی شہری صرف برطانوی ہونا نہیں بلکہ پاکستانی ہونا بھی پسند کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی شائقن کی ایک بڑی تعداد برطانوی فٹ بال کی بھی شائق ہے اور ان میں سے اکثریت نے ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں برطانوی فٹ بال ٹیم کی شرٹس پہن کر شرکت کی۔

منصور جب ہیڈنگلے ٹیسٹ میں شرکت کے لیے لیڈز میں تھے تو وہاں سے وہ شمال کی طرف بیسٹان بھی گیئے جو سات جولائی کو خودکش حملہ کرنے والوں میں سے تین کا آبائی شہر ہے۔ منصور نے بتایا کہ ان تین خود کش حملہ آوروں میں سے ایک حملہ آور بائیس سالہ شہزاد تنویر لندن جانے سے قبل شام کو وہاں پر کرکٹ کھیلتا رہا تھا۔

منصور کا کہنا ہے کہ ’میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک دن آپ کرکٹ کھیل رہے ہوں اور دوسرے دن آپ کئی لوگوں کو قتل اور زخمی کر دیں؟‘

منصور نے اپنی اس تحقیق کے دوران ساجد محمود سے بھی بات کی جس سے انہیں پتا چلا کہ یہ 24 سالہ کھلاڑی ایک بہترین رول ماڈل ہو سکتے ہیں ۔

لنکاشائر میں پیدا ہونے والا یہ فاسٹ بالر جو باکسر عامر خان کے کزن ہیں بہت کامیابی سے اپنی اسلامی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے برطانوی ہونے پر بھی فخر کرتے ہیں اور انہیں دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مختلف اقدار کو کامیابی سے ایک ساتھ رکھ سکتے ہیں۔

ساجد محمود اور مانٹی پینسر برطانوی کرکٹ کا ایک نیا رخ پیش کرتے ہیں

منصور کا کہنا ہے کہ انہوں نے ساجد محمود سے پوچھا کہ ’ان کے خاندان سے دو بڑے مسلمان ہیرو کیسے پیدا ہوئے جبکہ کئی دوسرے خاندان صرف ایسے لوگ پیدا کرتے ہیں جو کہ ریڈیکل، تنہا اور غصیلے ہیں‘۔

ان کا جواب تھا کہ ’ان کے خاندان نے انہیں یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں اور اپنے شوق کے مطابق آگے بڑھ سکیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جب انہوں نے اپنے خاندان کو بتایا کہ وہ کرکٹر بننا چاہتے ہیں تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ تمھیں اکاؤنٹینٹ بننا ہے بلکہ ان کا کہنا تھا کہ تم جو بھی کرو گے ہم تمھاری مدد کریں گے‘۔

اسی بارے میں
پاکستان کی شکست
08.12.2002 | صفحۂ اول
کنیریا،وارن آمنے سامنے
29.09.2002 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد