انڈیا ون ڈے سیریز جیت گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا نے ون ڈے انٹرنیشنل سیریز کے دوسرے میچ میں بنگلہ دیش کو 46 رنز سے شکست دے کر سیریز صفر کے مقابلے میں دو میچوں سے جیت لی ہے۔ سنیچر کو میر پور (ڈھاکہ) میں کھیلے جانے والے دوسرے ایک روزہ میچ میں انڈیا نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا اور 49 ویں اوورز میں آٹھ کھلاڑیوں کے نقصان پر 284 رنز بنائے۔ انڈیا کے نوعمر لیگ سپننر پیوش چاؤلہ نے 38 رنز کے عوض تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ گوتھم گمھبیر کی دوسری ایک روزہ سینچری نے انڈیا کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔انہوں نے 101 گیندوں پر 113 رنز بنائے جس میں گیارہ چوکے بھی شامل ہیں۔ انڈیا کے 284 رنز کے جواب میں بنگلہ دیش کی ٹیم 49 ویں اوورز میں نو کھلاڑیوں کے نقصان پر محض 238 رنز ہی بنا سکی۔ مشرف مرتضی نے بائیس گیندوں پر پانچ چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 42 رنز بنائے۔ دونوں اطراف سے ٹیموں میں معمولی تبدیلیاں کی گئیں۔ بنگلہ دیش نے مشرف مرتضی کو جبکہ انڈیا نے سری ناتھ کی جگہ نوجوان لیگ سپنر پیوش چاؤلہ کو ٹیم میں شامل کیا۔
انڈین ٹیم کے بلے باز سہواگ سید رسل کی گیند پر جاوید عمر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ وہ صرف اکیس رن ہی بنا سکے۔ دھونی نے 36 رنز بنائے۔ ٹیم کے کپتان ڈراوڈ بیالیس رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ یوراج چوبیس رنز بنا کر محمد رفیق کی گیند پر انہی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ ظہیر نو رن کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ بنگلہ دیش کے بالرز میں محمد رفیق نے 59 رنز کے عوض تین جبکہ سید رسل اور عبدالرزاق نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ مشرف ایک وکٹ ہی لے سکے۔ بنگلہ دیش کی جانب سے کوئی کھلاڑی بھی جم کر نہ کھیل سکا۔ مشرف مرتضی کے دھواں دھار چھکے بھی ٹیم کو سہارا نہ دے سکے۔ کپتان حبیب البشر نے 43 رنز اور آفتاب احمد نے چالیس رنز بنائے۔ مشفیق الرحمان پینتیس رنز بنا کر یوراج سنگھ کی گیند پر سہواگ کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ انڈیا کے بالرز میں پیوش چاولہ نے 38 رنز کے عوض تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ یوراج اور ظہیر نے دو دو جبکہ پور نے ایک وکٹ حاصل کی۔ سنیچر کا میچ جیتنے کے بعد انڈین ٹیم کے کپتان راہول ڈراوڈ کا کہنا تھا:’ہمیں اس وقت کسی بڑی اننگز کی توقع تھی جو گوتھم گمھبیر کی سینچری سے پوری ہو گئی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ وہ چٹاگانگ میں ہونے والا تیسرا ایک روزہ میچ بھی جیت جائیں گے۔اس میچ میں ان کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے گا جنہیں ابھی تک کھیلنے کا موقع نہیں ملا ہے۔
ڈراوڈ بالرز کی کارکردگی سے بھی کافی خوش دکھائی دیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بالرز خاص طور پر پیوش چاؤلہ نے متاثر کن کارکردگی دکھائی ہے۔ ان کا مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے۔ دوسری طرف بنگلہ دیش کے کپتان حبیب البشر کا کہنا تھا کہ انہیں کھلاڑیوں سے کسی بڑی اننگز کی امید تھی مگر اس کے برعکس یکے بعد دیگرے وکٹیں گرتی رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈین ٹیم کے بلے بازوں اور بالرز دونوں نے اچھی پرفارمنس دکھائی اور یہ بتا دیا کہ اس قسم کی صورت حال میں اچھی وکٹوں کو کیسے کھیلا جا سکتا ہے۔ بنگلہ دیش کی ٹیم: حبیب البشر (کپتان)، جاوید عمر، تمیم اقبال، اے احمد، ایس حسن، محمد اشرافل، ایم رحیم، عبدالرزاق، سید رسل، مشرف مرتضی۔ انڈیا کی ٹیم: راہول ڈراوڈ (کپتان)، وریندر سہواگ، گوتھم گھمبیر، کارتھک، یوراج سنگھ، مونگیا، پور، ظہیر خان، پٹیل، پیوش چاؤلہ۔ | اسی بارے میں تندولکر کو چوٹ لگ گئی02 May, 2007 | کھیل انڈین کرکٹرز اور ’کِٹ‘ کی کنفیوژن21 February, 2007 | کھیل بھارتی ٹیم کے نئے کوچ شاستری07 April, 2007 | کھیل سری لنکا نے انڈیا کو ہرا دیا23 March, 2007 | کھیل انڈیا فیصلہ کن میچ کے لیے تیار01 January, 2007 | کھیل انڈیا نے میچ اور سیریز جیت لی17 February, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||