انڈین کرکٹرز اور ’کِٹ‘ کی کنفیوژن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی کپ کرکٹ کے مقابلوں میں ہندوستان کی ٹیم کی شرٹس کے حوالے سے اس وقت ابہام پیدا ہوگیا جب ہندوستانی کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کی مداخلت کے بعد اس کے ایک قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہہ دیا کہ تمام کھلاڑی صرف اس کی منظور شدہ ’کِٹ‘ پہنیں گے۔ لیکن کرکٹ کے عالمی ادارے کے اس بیان سے قبل ہندوستان بھر میں لوگوں نے دیکھا کہ عالمی کپ کے دوران ان کے کرکٹ کے ستارے راہول ڈراوڈ، سچن تندولکر، سروو گنگولی اور دوسرے نائیکے کمپنی کی بنی ہوئی رنگ برنگی کٹس پہنیں گے۔ وجہ یہ تھی کہ نائیکے بڑی دھوم دھام سے اپنی کِٹ منظرِ عام پر لے آئی اور بتایا کہ ہندوستانی کھلاڑی اس کی بنی کٹ پہن کر ورلڈ کپ کھیلیں گے۔
اس صورتِ حال پر آئی سی سی نے ہندوستان کرکٹ بورڈ کو وضاحتی ای میل بھیجی جس کے بعد نتیجہ یہ ہوا کہ نائیکے کمپنی کو ایک وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا کہ اس کی بنی ہوئی کٹ ہندوستانی کھلاڑی ایک روزہ میچوں میں پہنیں گے مگر یہ ایک روزہ میچ عالمی کپ کے میچوں کے علاوہ ہوں گے۔ نائیکے کے اس بیان سے کمپنی کے بڑوں کی سبکی ہوئی ہے کیونکہ آئی سی سی قواعد کے مطابق کوئی بھی ٹیم عالمی کپ کرکٹ کے دوران ایسی کٹس نہیں پہن سکتی جن پر سپانسرز کے نام ہوں۔ ہندوستانی کرکٹ بورڈ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ کرکٹ کی عالمی کونسل نے نائیکے کی جرسی کو مسترد کر دیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہندوستانی کھلاڑیوں نے نائیکے کی جو شرٹس پہن کر تصویریں بنوائیں، یہ وہ نہیں ہیں جنہیں پہن کر ہندوستانی کھلاڑی عالمی کپ کے مقابلوں میں حصہ لیں گے۔ ’آئی سی سی پہلے ہی یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ ہندوستانی کھلاڑی کونسی کٹ پہن کر میدان میں اتریں گے۔‘ نائیکے نے ہندوستانی کرکٹ بورڈ کے ساتھ پانچ سال کے لیے چالیس ملین ڈالر کا معاہدہ کیا ہوا ہے جس کے تحت وہ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی سپانسر کمپنی ہے۔ | اسی بارے میں انڈیا کی جیت، سیریز برابر14 February, 2007 | کھیل ورلڈ کپ: انڈین ٹیم کا اعلان12 February, 2007 | کھیل تندولکر عالمی رینکنگ میں پیچھے28 June, 2006 | کھیل تندولکر کے کندھے کا آپریشن27 March, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||