کرکٹ: فائنل کن ٹیموں کے درمیان؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی کپ کے سیمی فائنلز کی صورتحال واضح ہو چکی ہے اور سوال صرف یہ ہے کہ فائنل کن ٹیموں میں ہو سکتا ہے۔ زیادہ تر مبصرین کا خیال ہے کہ موجودہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے آسٹریلیا کا فائنل میں پہنچنا تو تقریباً طے ہے۔ باقی بچتے ہیں جنوبی افریقہ، نیو زی لینڈ اور سری لنکا اور ظاہر ہے کہ تینوں کی خواہش ہوگی کہ سیمی فائنل میں آسٹریلیا سےمقابلہ نہ ہو۔ اس کا فیصلہ پوائنٹس ٹیبل پر ہوگا کہ سیمی فائنل میں کس کا مقابلہ کس سے ہوتا ہے۔ سر فہرست رہنے والی ٹیم چوتھا مقام حاصل کرنے والی ٹیم سے کھیلے گی۔ یہ بات تو طے ہے کہ جنوبی افریقہ چوتھے مقام پر رہے گی کیونکہ اس کے میچز ختم ہوچکے ہیں اور اس کے صرف چھ پوائنٹس ہیں۔ پہلے اور دوسرے مقام کے لیے دوڑ آسٹریلیا اور نیو زی لینڈ کے درمیان ہے۔ آسٹریلیا اب تک کوئی میچ نہیں ہارا ہے اور اس کے چھ میچوں سے بارہ پوائنٹس ہیں۔ نیوزی لینڈ کو سُپر ایٹ میں سری لنکا نے ہرایا تھا اور اس کے چھ میچوں میں دس پوائنٹس ہیں۔ نیو زی لینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان جمعرات کو باربیڈوس میں مقابلہ ہوگا۔ اگر آسٹریلیا جیتتا ہے، تو صورتحال وہی رہے گی جو اب ہے، یعنی سیمی فائنل میں اس کا مقابلہ جنوبی افریقہ سے اور نیو زی لینڈ کا سری لنکا سے۔
لیکن اگر نیو زی لینڈ جیتتا ہے تو اس کے بھی بارہ پوائنٹس ہو جائیں گے، اور پھر صورتحال تھوڑی پیچیدہ ہوجاتی ہے۔ اگر ٹیموں کے پوائنٹس برابر ہوں، تو فیصلہ اس بنیاد پر ہوگا کہ سُپر ایٹس میں پہنچنے والی ٹیموں کے خلاف سب سے زیادہ میچ کس نے جیتےاور اس میں ٹورنامنٹ کے تمام میچز کا احاطہ کیا جائے گا۔ اس مرحلے پر نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا برابری پر ہوں گے کیونکہ دونوں ٹیمیں صرف ایک ایک میچ ہاری ہوں گی۔ اس کے بعد سُپر ایٹ کے کوالیفائرز کے خلاف نیٹ رن ریٹ دیکھا جائے گا۔ جہاں تک رن ریٹ کا سوال ہے آسٹریلیا نیو زی لینڈ سے کافی آگے ہے۔ اور جمعرات کو اگر وہ بری طرح بھی ہارتا ہے، تب بھی رن ریٹ کے لحاظ سے سر فہرست رہے گا۔ یعنی سیمی فائنل میچز میں جنوبی افریقہ کو آسٹریلیا کے خلاف کھیلنا ہوگا اور نیوزی لینڈ کو سری لنکا کے خلاف۔ سری لنکا کےلیے یہ اچھی خبر ہے کیونکہ نیوزی لینڈ کے خلاف سُپر ایٹ کا میچ اس نے آسانی سے جیت لیا تھا۔ عالمی کپ کے سیمی فائنلز میں نیو زی لینڈ کا ریکارڈ کافی خراب رہا ہے اور چار مرتبہ اس مرحلے تک پہنچنے کے باوجود اس نے ایک بار بھی فائنل تک رسائی حاصل نہیں کی۔ اگرچہ سُپر ایٹ میں سری لنکا کو آسٹریلیا نے یک طرفہ طور پر ہرادیا تھا لیکن اس میچ میں سری لنکا نے اپنی بہترین ٹیم میدان پر نہیں اتاری تھی لیکن بہترین ٹیموں کے خلاف بھی آسٹریلیا کا ریکارڈ بے مثال ہے۔ انیس سو ننانوے سے اب تک عالمی کپ کے بیس میچوں میں اس کی جیت کا سلسلہ نہیں ٹوٹا ہے۔
عالمی کپ میں آسٹریلیا کو ہرانے والی آخری ٹیم پاکستان تھی لیکن وہ میچ تو بس اب ایک دھندلی سی یاد بن چکا ہے۔ یہاں جس سے بھی بات کرو، زیادہ تر لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح کا ’ڈومینیشن‘ (غلبہ) کھیل کے لیے اچھا نہیں، اور اب آسٹریلیا کو ہارنا چاہیےگ اس کے باوجود زیادہ تر لوگ یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے آسٹریلیا کو مسلسل تیسری بار بھی اس اعزاز سے محروم کرنا مشکل ہی نظر آتا ہے۔ لیکن کرکٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے اور صرف ایک خراب میچ آسٹریلیا کی حکمرانی کا تختہ پلٹ سکتا ہے اور یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سیمی فائنل میں اس کا مقابلہ ایک ایسی ٹیم سے ہے جو صرف چند روز پہلے تک، ایک روزہ میچوں کے لیے آئی سی سی کی رینکنگ کے حوالے سے دنیا کی نمبر ون ٹیم تھی۔ | اسی بارے میں آسٹریلیا ’مِنی فائنل‘ جیت گیا16 April, 2007 | کھیل سری لنکا، آسٹریلیا کا مِنی فائنل15 April, 2007 | کھیل آسٹریلیا، جنوبی افریقہ فیورٹ: انضی14 April, 2007 | کھیل آسٹریلیا باآسانی جیت گیا 13 April, 2007 | کھیل اینٹیگا: آسٹریلیا کی آسان جیت08 April, 2007 | کھیل آسٹریلیا کی دس وکٹوں سے جیت31 March, 2007 | کھیل بنگلہ دیش، آسٹریلیا کا مقابلہ آج31 March, 2007 | کھیل آسٹریلیا کی دس وکٹوں سے جیت31 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||