سری لنکا، آسٹریلیا کا مِنی فائنل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گرینیڈا کے نیشنل اسٹیڈیم میں پیر کو سری لنکا اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والے مقابلے کو مبصرین ایک منی فائنل کےطور پر دیکھ رہے ہیں۔ مقابلہ ہمیشہ کی طرح سخت ہونے کی توقع ہے اور اس کی دو وجہ ہیں۔ ایک تو دونوں ٹیمیں زبردست فارم میں ہیں، اور دوسرا یہ کہ دونوں کے درمیان پرانی رنجش ہے جس کی جڑیں انیس سو چھیانوے کے ورلڈ کپ تک جاتی ہیں جب آسٹریلیا نے سکیورٹی کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے اپنا میچ کھیلنے کے لیے سری لنکا جانے سے انکار کر دیا تھا۔ حسن اتفاق سے فائنل آسٹریلیا اور لنکا کے درمیان ہی ہوا، اور لنکا نے اروندا ڈی سلوا کی شاندار سینچری کی مدد سے اپنا انتقام لے لیا۔ اس کے بعد مرلی دھرن کے ایکش پر آسٹریلوی اپمائر ڈیرل ہیر نے اعتراض کیااور تب سے دونوں ٹیموں کی آپس میں نہیں بنتی۔
لنکا کے کوچ ٹام موڈی کہتے ہیں کہ وکٹ شروع میں فاسٹ بولز کی مدد کرے گی لیکن بعد میں اسپنرز کو کھیلنا مشکل ہوگا۔ سری لنکا کے خطرناک فاسٹ بولر لست ملنگا کے ٹخنے کی سوجن کم ہے، کل انہوں نے نیٹس میں تھوڑی دیر بولنگ بھی کی لیکن ٹام موڈی کے مطابق انہیں آج ٹیم میں شامل کیے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ وہ سیمی فائنل سے قبل کوئی خطرہ مول لینے کو تیار نہیں۔ نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے میچ کی طرح آج بھی ٹاس فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے لیکن گراؤنڈ اسٹاف کاکہنا ہے کہ آج وکٹ میں اتنی نمی نہیں ہوگی جتنی پچھلےمیچ میں تھی۔ آسٹریلیا کو اس میچ میں بھی شین واٹسن کے بغیر کام چلانا ہوگا لیکن سب کی نگاہیں لیگ اسپنر بریڈ ہاگ پر ہوں گی جو شین وارن کے بعد سے ٹیم میں اسپن کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔ اس وکٹ پر اسپنرز کافی کامیاب رہے ہیں۔ لیکن سری لنکا کے لیے بڑا چیلنج شروع میں ہی ایڈم گلکرسٹ اور میتھیو ہیڈن کی جوڑی کو توڑنا ہوگا جو اپنی جارحانہ بیٹنگ سے چند ہی اوورز میں کھیل کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ | اسی بارے میں میکگرا نے اکرم کا ریکارڈ توڑ دیا01 April, 2007 | کھیل اینٹیگا: آسٹریلیا کی آسان جیت08 April, 2007 | کھیل سری لنکا آخری بال پر جیت گیا04 April, 2007 | کھیل نیوزی لینڈ کی پہلی شکست12 April, 2007 | کھیل ویسٹ انڈیز کی ہار، تیسری بار 01 April, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||