گبز کے چھکے، کیلیس کی سینچری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیدرلینڈز اور جنوبی افریقہ کے درمیان سینٹ کٹس میں ہونے والے میچ میں جنوبی افریقہ کے ہرشیل گبز ویسٹ انڈیز کے گیری سوبرز کی صف میں شامل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے چھ گیندوں میں چھ چھکے لگا کر ایک روزہ میچوں کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ جنوبی افریقہ کے 353 رنز کی جواب میں نیدرلینڈز کی ٹیم مقررہ چالیس اوورز میں صرف 132 رنز بنا سکی اور اس طرح جنوبی افریقہ نے یہ میچ 221 رنز سے جیت لیا۔ نیدرلینڈز کی طرف سے سب سے زیادہ رنز ڈوئشے نے بنائے۔ وہ 57 رنز بنانے کے بعد رن آؤٹ ہوئے۔ ٹیم کے باقی کھلاڑی کوئی قابل قدر سکور نہ کر سکے اور صرف لیڈ ہی 21 رنز بنا پائے۔ نیدرلینڈز کی اننگز کا آغاز بہت برا ہوا اور پہلے پانچ اوورز میں ہی اس کے دو کھلاڑی آؤٹ ہو گئے۔ جنوبی افریقہ کی اننگز کی خاص بات اس کے بیٹسمینوں کی جارحانہ بیٹنگ تھی۔ ہرشیل گبز نے ایک روزہ میچوں کی تاریخ میں پہلی بار چھ گیندوں پر چھ چھکے لگائے۔ انہوں نے بنج کے ایک اوور میں 36 رنز بنا کر سنتھ جے سوریا کا ایک اوور میں تیس رنز کا ریکارڈ توڑا۔
ڈی ویلیئرز کے علاوہ جنوبی افریقہ کے ہر بیٹسمین نے پچاس سے زائد سکور کیا۔ ژاک کیلیس نے 109 گیندوں پر گیارہ چوکوں اور پانچ چھکوں کی مدد سے 128 رنز بنائے۔ان کے ساتھ باؤچر نے 75 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔ جنوبی افریقہ کے آخری آؤٹ ہونے والے کھلاڑی گبز ہی تھے جو ایک دھواں دھار اننگز کے بعد 40 گیندوں پر 72 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ ان کی اننگز میں چار چوکے اور سات چھکے شامل ہیں۔ ورلڈ کپ میں کبھی کسی میچ میں اتنے چھکے نہیں لگے جتنے اس میچ میں لگے ہیں۔ چالیس اوورز میں 18 چھکے لگائے گئے۔ کھیل تاخیر سے شروع کیے جانے کی وجہ سے اوورز کی تعداد کم کر کے 40 کر دی گئی تھی۔ اس میچ میں ایک اور ریکارڈ بنایا گیا اور وہ تھا ورلڈ کپ میں سب سے تیز نصف سنچری۔ مارک باؤچر نے 21 گیندوں پر 50 رنز بنانے کا یہ اعزاز حاصل کیا۔ جنوبی افریقہ کی طرف سے سمتھ اور ڈی ویلیئرز نے اننگز کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی ڈی ویلیئرز تھے جو بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔ اس وقت جنوبی افریقہ کا مجموعی سکور ایک تھا۔ اس کے بعد کیلیس اور سمتھ نے اننگز کو سنبھالا اور سکور کو انیسویں اوور میں 114 تک پہنچا دیا۔ اس وقت سمتھ چھ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 67 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ نیدرلینڈز نے ٹاس جیت کر جنوبی افریقہ کو بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔ سینٹ کٹس میں گزشتہ رات بارش ہوتی رہی جس کی وجہ سے وکٹ نم رہی اور اس وجہ سے کھیل وقت پر شروع نہیں ہو سکا۔ کھیل تاخیر سے شروع کیے جانے کے باعث اوورز کو پچاس سے کم کر کے چالیس کر دیا گیا تھا۔ نیدرلینڈز: پی ڈبلیو بورن، ٹی بی ایم ڈی لیڈ، اے این ریکرز، جے سمتھ، وی ایف سٹیلنگ، ای ایس سوارزنکسی، آر این ڈوئشیے، ڈی ایل ایس بنج، ایل پی ٹروسٹ، بی زؤڈیرینٹ۔ جنوبی افریقہ: ایم وی باؤچر، اے بی ڈی ویلیئرز، ہرشیل گبز، ژاک کیلیس، کیمپ، سی کے لینگیویلٹ، نیل، شان پولاک، پرنس، سمتھ۔ |
اسی بارے میں جنوبی افریقہ کے خلاف فتح09 March, 2007 | کھیل جنوبی افریقہ جیت گیا 14 February, 2007 | کھیل جنوبی افریقہ کی دس وکٹوں سے جیت11 February, 2007 | کھیل گبز کی اپیل مسترد25 January, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||