میچ ٹائی، آئرلینڈ نے جیت چھین لی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئرلینڈ اور زمبابوے کے درمیان ہونے والے میچ میں آخری گیند پر زمبابوے کے رینزفورڈ کے رن آؤٹ ہونے سے میچ ٹائی ہو گیا ہے۔ جمیکا کے سبینا پارک میں عالمی کرکٹ کپ کے سلسلے میں ہونے والا میچ اب تک ہونے والے میچوں میں سب سے زیادہ سنسنی خیز میچ تھا۔ اور ورلڈ کپ کی تاریخ کا تیسرا میچ تھا جو کہ ٹائی ہوا۔ اس میچ کا فیصلہ آخری بال پر ہوا لیکن اس فیصلے سے کوئی ٹیم بھی نہیں جیتی۔ تاہم آئرلینڈ کا خوشیاں منانا بالکل جائز ہے کیونکہ اس نے جیت زمبابوے کے منہ سے چھین لی۔ آئرلینڈ نے اپنے اوپنر جرمی برے کے شاندار 115 رنز کی بدولت مقررہ پچاس اوورز میں 221 رنز بنائے ہیں جسکے جواب میں زمبابوے نے آخری اوور میں 221 رنز تو بنا ڈالے لیکن جیت کے لیے ایک رن لیتے ہوئے آخری کھلاڑی آؤٹ ہو گئے۔ زمبابوے کی طرف سے تین کھلاڑی رن آؤٹ ہوئے۔ 49 ویں اوور میں مپوفو اور پچاسویں اوور میں رینسفورڈ آؤٹ ہوئے۔ زمبابوے کے پہلے آؤٹ ہونے والے پہلے کھلاڑی دفن تھے جنہیں رینکن نے آؤٹ کیا۔ اس کے بعد شیباندا 12 رنز بنانے کے بعد، ولیمز 14، سیباندا 67 اور شیگمبورا چار رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ چھٹے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی ٹیلر تھے جو 24 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے۔ برینٹ تین رنز بنا کر اور اٹسیا ایک رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اس عالمی کپ کی پہلی سینچری بنانے والے جرمی برے کے علاوہ آئرلینڈ کا کوئی دوسرا کھلاڑی تیس سے زیادہ رنز نہ بنا سکا جبکہ اس کے چار بلے باز یا تو صفر پر آؤٹ ہوئے یا صرف ایک رن بنا پائے۔ میچ سے قبل ایک انٹرویو میں آئرلینڈ کے کپتان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم زمبابوے کی ناتجربہ کار ٹیم کے خلاف ایسی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہے جس کی شاید اس سے توقع نہ کی جا رہی ہو۔ گزشتہ عرصے میں کھلاڑیوں کی طرف سے ہڑتالوں اور بائیکاٹ کی وجہ سے زمبابوے کے ایک اچھی ٹیم ترتیب دینے کےامکانات معدوم رہے ہیں۔ یہاں تک کے اس ٹیم میں سٹیورٹ میٹسی کنیاری وہ واحد کھلاڑی ہیں جو دو ہزار تین کا عالمی کپ کھیلے تھے۔ شاید یہی باتیں مدنظر رکھتے ہوئے آئرلینڈ کے کپتان ٹرنٹ جانسٹن نے کہا ہے کہ ’ اگر ہم اپنی ’اے‘ ٹیم میدان میں اتارنے میں کامیاب رہتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ ہم جیت جائیں گے۔‘ ان کا کہنا تھا ’ہم جانتے ہیں کہ ویسٹ انڈیز کو اس کے ہوم گراؤنڈ پر ہرانا مشکل ہوگا، پاکستان بھی ایک عالمی درجے کی ٹیم ہے اور زمبابوے میں بھی ’اپ سیٹ‘ کرنے کی صلاحیت ہے لیکن کوئی وجہ نہیں کہ ہم بھی اپنے تئیں کوئی ’اپ سیٹ‘ کرنے میں کامیاب نہ ہوں۔‘ آئرلینڈ کی ٹیم میں ٹنرٹ جانسن، بوتھا، برے، کیرول، گلپسی، لینگفورڈ سمتھ، میکالن، جے مونی، پی مونی، مورگن، کے او برائن، این او برائن، پورٹفیلڈ، رنیکن اور وائٹ میں سے گیارہ کھلاڑی لیے گئے ہیں۔ زمبابوے کی ٹیم اٹسیا (کپتان، جی برنٹ، چبھا بھا، چگمبرا، دفن، مٹسی کنیاری، سی پوفو، رینسفورڈ، سبندا، ٹیلر اور ایس ولیمز۔ |
اسی بارے میں بالنگ: رکی پونٹنگ کی بے یقینی07 March, 2007 | کھیل بیٹنگ ناکام، پاکستان میچ ہار گیا13 March, 2007 | کھیل بھارت، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ فاتح09 March, 2007 | کھیل گیس لِیک: کرکٹرز ہوٹل سے باہر07 March, 2007 | کھیل بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||