گیس لِیک: کرکٹرز ہوٹل سے باہر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کو ٹرنیڈاڈ میں کرکٹ کے عالمی کپ کھیلنے کے لیے آئے ہوئے ساٹھ کھلاڑیوں کو اس وقت اپنے ہوٹل سے باہر جانا پڑا جب وہاں گیس کا اخراج شروع ہوگیا۔ ہلٹن ہوٹل میں جہاں یہ کرکٹرز ٹھہرے ہوئے تھے، سکیورٹی کے عملے کو ہر کھلاڑی کے کمرے کے دروازے پر دستک دے کر انہیں آگاہ کرنا پڑا کہ وہ ہوٹل کی عمارت سے باہر نکل جائیں۔ جنوبی افریقہ، کینیڈا اور آئرلینڈ کی ٹیمیں بسوں میں بیٹھ کر ہوٹل کی عمارت سے دور چلی گئیں البتہ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں نے کہا کہ وہ ہوٹل کے قریب ہی رہیں گے۔ گیس کے اخراج سے کسی کرکٹر کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا البتہ ہوٹل کے عملے کے کم از کم تین ارکان کو ہسپتال لے کر جانا پڑا۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں آگ بجھانے والی اور ہنگامی طور پر استعمال کی جانے والی کئی گاڑیاں دیکھی گئیں۔ پاکستان کے آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے اخبار نویسوں کو بتایا: ’مجھے نہیں معلوم کہ یہاں کیا ہوا ہے ۔ میں ابھی اٹھا ہی تھا کہ سکیورٹی کے عملے نے دروازہ بجانا شروع کر دیا اور کہا کہ کمرے سے باہر چلے جائیں‘۔ ’لیکن میں پھر سو گیا۔ اس نے پھر دستک دی اور کہا کہ کمرے سے باہر چلے جائیں۔ اس پر میں اٹھا اور کمرے سے باہر نکل کر سیڑھیاں اتر کے نیچے چلا گیا۔‘ اگرچہ گیس کے اخراج کے باجود کہیں دھواں نظر نہیں آیا نہ کہیں آگ کے شعلے دکھائی دیئے تاہم شاہد آفریدی نے بتایا کہ انہوں نے سنا ہے کہ ہوٹل کی آٹھویں منزل پر آگ لگی تھی۔ محمد سمیع نے بتایا: ’میں چھٹی منزل پر تھا جب سکیورٹی کے عملے کا ایک رکن میرے کمرے میں آیا اور مجھے کہا کہ ہوٹل سے باہر چلے جائیں۔ میں نے دیکھا کہ راہداری سے بہت دھواں اٹھ رہا تھا لہذا میں تیزی سے نیچے چلا گیا۔‘ جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کے میڈیا کے رابطہ افسر گورڈن ٹیمپلیٹن نے گیس کے اخراج کے واقعہ کو ’گیس دھماکہ‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا: ’دھماکے کے فوراً بعد جو مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے ہوا، ہوٹل خالی کرا لیا گیا۔ یہ واضح نہیں کہ دھماکہ کیسے ہوا لیکن ٹیم کے تمام اراکان محفوظ ہیں۔‘ |
اسی بارے میں جمیکا ورلڈ کپ کے لیے تیار؟03 March, 2007 | کھیل وارم اپ میچ میں پاکستان کی فتح06 March, 2007 | کھیل شعیب اور آصف معافی مانگیں: راجہ02 March, 2007 | کھیل علاج یا ڈوپ یاترا؟06 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||