کرکٹ: شکست کے بعد چناؤ پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دورۂ جنوبی افریقہ کے دوران فاسٹ بولرز شعیب اختر اور شبیر احمد کے ان فٹ ہوجانے اور متبادل کھلاڑیوں کے انتخاب کے معاملے میں سلیکشن کمیٹی خصوصاً چیف سلیکٹر وسیم باری کا کردار ان دنوں کرکٹ کے حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ وسیم باری نے فاسٹ بولر شعیب اختر کو پاکستانی ٹیم کے ساتھ جنوبی افریقہ نہ بھیجنے لیکن بعد میں انہیں جنوبی افریقہ روانہ کیے جانے کے بارے میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ شعیب اختر کی ٹیم میں شمولیت فٹنس سے مشروط تھی اور یہ تاثر درست نہیں کہ انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کی ایماء پر جنوبی افریقہ بھیجا جا رہا ہے۔ شعیب اختر جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کی صرف ایک اننگز میں بولنگ کے بعد ان فٹ ہوگئے تھے اور اب اس سوال کا جواب دینے کو کوئی بھی تیار نہیں کہ شعیب اختر کو مکمل ’میچ فٹنس‘ کے بغیر جنوبی افریقہ کیوں بھیجا گیا؟ شعیب اختر کے متبادل کا مسئلہ درپیش ہوا تو قرعہ فال شبیر احمد کا نکلا۔ شعیب اختر کی طرح شبیر احمد بھی ٹیم سے باہر تھے اور انہیں ’میچ فٹنس‘ درکار تھی۔ شبیر احمد کے بارے میں چیف سلیکٹر نے پہلے یہ موقف اختیار کیا کہ وہ مکمل فٹ نہیں ہیں، لہذا انہیں جنوبی افریقہ نہیں بھیجا جاسکتا۔ لیکن چار روز بعد ایک کلب میچ کی بنیاد پر انہیں فِٹ قرار دے کر جنوبی افریقہ بھیج دیا گیا۔
جنوبی افریقہ میں ایک ٹوئنٹی 20 میچ کے دوران شبیر احمد ان فٹ ہو گئے اور پاکستان واپس بھیجنا پڑا۔ انہیں جنوبی افریقہ بھیجنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے وسیم باری نے کہا تھا شبیر احمد کی انجری شعیب کی انجری کی طرح خطرناک نوعیت کی نہیں ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جس کلب میچ کی بنیاد پر شبیر احمد کو جنوبی افریقہ بھیجا گیا وسیم باری نے اسے دیکھا ہی نہیں۔ ٹیم کے چناؤ پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ عبدالرزاق اور شاہد آفریدی کو بھی ’میچ فٹنس‘ کے بغیر ٹیم میں شامل کیا گیا۔ آل راؤنڈر اظہرمحمود کو مارچ میں شروع ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کے تیس ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل نہیں کیا گیا، لیکن اب انہیں ہنگامی طور پر جنوبی افریقہ بھیجا جا رہا ہے۔ جنوبی افریقہ جانے والی ابتدائی ٹیم میں اظہر محمود کی عدم شمولیت کے بارے میں کیے گئے سوال کے جواب میں چیف سلیکٹر وسیم باری کا کہنا تھا ’وہ ماضی کی بجائے مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں‘۔ سابق ٹیسٹ کرکٹرز جاوید میاں داد، ہارون رشید، وسیم اکرم اور صلاح الدین صلو نے قومی ٹیم کے چناؤ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلیکشن کمیٹی میں تبدیلی کا وقت آگیا ہے۔ صلو نے تو سلیکشن کمیٹی کو ’ربڑ سٹیمپ‘ قرار دیا ہے۔ ان سابق کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ٹیم میں ’پلیئرز پاور‘ موجود ہے، جس کے سامنے بورڈ اور سلیکشن کمیٹی دونوں بے بس ہیں۔ | اسی بارے میں شبیر احمد’اچانک‘ فٹ ہو گئے29 January, 2007 | کھیل جنوبی افریقہ نے سیریز جیت لی28 January, 2007 | کھیل جیت کی خوشی، خامیوں پر نظر22 January, 2007 | کھیل وسیم کی سیلیکشن کمیٹی پر تنقید12 January, 2007 | کھیل وجہ اختلافات نہیں فٹنس ہے، انضمام 03 January, 2007 | کھیل جنوبی افریقہ کے لیے ٹیم کا اعلان29 December, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||