جیت کی خوشی، خامیوں پر نظر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے جنوبی افریقہ کے خلاف پورٹ الزبتھ ٹیسٹ میں پاکستان کی پانچ وکٹوں کی جیت کو شاندار قرار دیا ہے، لیکن ساتھ ہی وہ سامنے آنے والی خامیوں پر بھی توجہ دینے پر زور دے رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نظم و ضبط کے معاملے میں کمزوری دکھا رہا ہے۔ سابق کپتان جاوید میانداد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جیت بہرحال جیت ہوتی ہے لیکن پاکستانی ٹیم کو منزل تک پہنچنے کے لیے کافی تگ ودو کرنی پڑی۔ ٹاپ آرڈر بیٹنگ کا مسئلہ بدستور موجود ہے۔ شعیب اختر کے بارے میں سوال پر جاوید میانداد کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کھلاڑی خود ہی سنبھلنے کے لیے تیار نہ ہو تو کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شعیب اختر کو پہلے بھیجا جاتا یا بعد میں بھیجا گیا انہیں کوئی فرق نظرنہیں آیا۔ سابق کپتان انتخاب عالم کے خیال میں یہ ایک شاندار جیت ہے۔ شعیب اختر نے پہلے دن جو بالنگ کی اس نے جیت کی بنیاد رکھی لیکن بعد میں ان کی غیرموجودگی میں جس طرح انضمام الحق نے تین بالرز کے ساتھ کام لیا وہ قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد آصف اور دانش کنیریا نے شاندار بولنگ کی۔ خود انضمام الحق کی بیٹنگ انتہائی عمدہ رہی اور دراصل اسی اننگز نے پاکستانی ٹیم کو جیت کے قابل بنایا۔ انتخاب عالم نے شعیب اختر کے ان فٹ اور باب وولمر کے ساتھ تلخ کلامی کے واقع کے بارے میں کہا کہ یہ ٹیم منیجیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ صورتحال کو سنبھالے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر صلاح الدین صلو کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم نے پہلا ٹیسٹ ہارنے کے بعد جس طرح کم بیک کیا وہ شاندار اور متوقع تھا کیونکہ پاکستانی ٹیم میں فائٹنگ سپرٹ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے دن جنوبی افریقہ کو کم سکور پر آؤٹ کرنے کا سہرا شعیب اختر کو جاتاہے۔ آصف نے عمدہ بالنگ کی جبکہ اہم مواقع پر انضمام، یونس اور کامران اکمل نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرکے جیت کو ممکن بنایا۔
صلاح الدین صلو نے موجودہ سلیکشن کمیٹی کو ربڑ سٹمپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ہونا چاہیے کہ شعیب اختر کو پہلے نہ بھیجنے کا قدم غلط تھا یا بعد میں بھیجنے کا۔ باب وولمر کے ساتھ شعیب اختر کے جھگڑے کے بارے میں صلاح الدین صلو نے کہا کہ ڈسپلن پر عملدرآمد ٹیم کے منیجر طلعت علی کی ذمہ داری ہے۔ سابق بیٹسمین اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ ٹیم کو اختلافات ختم کرکے ورلڈ کپ پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرا ٹیسٹ جیت کر پاکستان کو نفسیاتی برتری حاصل ہوئی ہے جس سے اسے تیسرے ٹیسٹ میں فائدہ اٹھانا چاہئیے۔ | اسی بارے میں پاکستان نےجنوبی افریقہ کو ہرا دیا22 January, 2007 | کھیل کوچ گریگ چیپل کی پٹائی 22 January, 2007 | کھیل گبز اور کیلس کی جم کر بیٹنگ21 January, 2007 | کھیل جیت کے لیے مزید 183 رن درکار 21 January, 2007 | کھیل کیلس اور پرنس کی محتاط بیٹنگ20 January, 2007 | کھیل پاکستان کے چھ کھلاڑی آؤٹ19 January, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||