شبیر احمد’اچانک‘ فٹ ہو گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف سلیکٹر وسیم باری نے پہلے شعیب اختر اور اب شبیراحمد کو دورۂ جنوبی افریقہ کے لئے پاکستانی ٹیم میں شامل کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا ہے۔ چیف سلیکٹر کا کہنا ہے کہ شعیب اختر کو جنوبی افریقہ بھیجا جانا رسک ضرور تھا لیکن ان کی فٹنس سے مطمئن ہونے کے بعد انہیں ٹیم میں شامل کیا گیا تھا جبکہ شبیراحمد کو ٹرینر گرانٹ کامپٹن کی رپورٹ پر جنوبی افریقہ بھیجا جارہا ہے۔ صرف تین روز قبل شبیراحمد کے بارے میں یہ خبر آئی تھی کہ جب ان کی فٹنس جانچنے کے لیے ان سے بولنگ کرائی گئی تو وہ چند ہی اوورز کرا سکے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ شبیراحمد مکمل فٹ نہیں ہیں لیکن تین روز کے بعد چیف سلیکٹر نے کہا ہے کہ شبیراحمد نے فٹنس ٹیسٹ پاس کرلیا ہے۔ وسیم باری کا کہنا ہے کہ شبیراحمد کے پیر میں سوجن آگئی تھی۔ ان کی انجری شدید نوعیت کی نہیں تھی دو روز آرام کے بعد انہوں نے بولنگ کی اور ٹرینر گرانٹ کامپٹن نے انہیں فٹ قرار دیا ہے۔ وسیم باری کے مطابق شعیب اختر کی جنوبی افریقہ کےلیے ٹیم میں شمولیت ان کی فٹنس سے مشروط تھی۔وہ ساتھی سلیکٹرز اور بورڈ کو یہ بتاکر حج پرگئے تھے کہ اگر شعیب اختر فٹ ہیں تو انہیں ٹیم میں شامل کیا جائے ورنہ نہیں۔ عمرگل کے ان فٹ ہونے کے وقت شعیب اختر چند فرسٹ کلاس میچ کھیل چکے تھے اور ٹیم کو بھی ایسے بولر کی ضرورت تھی جو دوسرے اینڈ سے محمد آصف کے ساتھ آؤٹ کرے لہذا شعیب اختر کو جنوبی افریقہ بھیجا گیا۔ وسیم باری کے مطابق شعیب اختر کی فٹنس کے ساتھ ہر وقت رسک رہتا ہے جو بہرحال لینا پڑتا ہے۔ وسیم باری کا کہنا ہے کہ ٹیم منیجمنٹ نے سلیکشن کمیٹی کو مطلع کردیا ہے کہ شعیب ملک فٹ ہیں اور وہ ون ڈے سییرز کے لیے دستیاب ہونگے۔ | اسی بارے میں آئی سی سی نے شبیرکو کلیئر کردیا 21 December, 2006 | کھیل شبیر، بالنگ ایکشن بہتر: سرفراز13 January, 2006 | کھیل شبیر احمد پر ایک سال کی پابندی19 December, 2005 | کھیل شبیر،شعیب ملک کےایکشن پراعتراض17 November, 2005 | کھیل شبیر: 10 میچوں میں پچاس وکٹیں14 November, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||