BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 September, 2006, 14:32 GMT 19:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہناز شیخ ہی نئے ہاکی کوچ ہوں گے

شہناز شیخ
شہناز شیخ سنہ اٹھانوے۔ ننانوے اور دو ہزار تین میں بھی کوچ رہ چکے ہیں
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے شہناز شیخ سے کہا ہے کہ وہ ورلڈ کپ کے بعد بھی قومی ہاکی ٹیم کے کوچ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری نبھاتے رہیں۔

شہناز شیخ کو پاکستانی ہاکی ٹیم کی انتہائی مایوس کن کارکردگی کے بعد آصف باجوہ کی جگہ ورلڈ کپ کے لئے کوچ مقرر کیا گیا تھا۔ جس کے بعد ورلڈ کپ میں پاکستان نے چھٹی پوزیشن حاصل کی۔

شہناز شیخ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری اخترالاسلام نے ورلڈ کپ کے دوران ان سے مستقبل میں بھی کوچ کی ذمہ داری جاری رکھنے کی بات کی تھی۔ ان کا خیال ہے کہ چونکہ ایشین گیمز میں وقت بہت کم ہے لہذا کارکردگی میں تسلسل برقرار رکھنے کے لئے وہ کوچ کے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔

شہناز شیخ کا کہنا ہے کہ وہ جدہ میں پی آئی اے سے وابستہ ہیں اور وہ اپنے ادارے اور فیملی سے اس بارے میں بات کرکے ہی کوچ کے فرائض انجام دینے کے بارے میں حتمی فیصلہ کرینگے۔

 شہناز شیخ کے خیال میں بیجنگ اولمپکس کو ذہن میں رکھتے ہوئے کم از کم چار کھلاڑیوں کی تبدیلی ناگزیر ہے

شہناز شیخ کہتے ہیں کہ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کو اگر بہت اچھا نہیں تو بہت خراب بھی نہیں کہا جا سکتا۔ ورلڈ کپ میں انہیں بہت کم وقت ملا تھا جس کے سبب انہیں بہت سی باتوں پر سمجھوتہ کرنا پڑا ۔ لیکن اس کے باوجود اگر کچھ عرصے قبل کی پاکستانی ٹیم کی انتہائی خراب کارکردگی کا موازنہ ورلڈ کپ کی کارکردگی سے کریں تو اسے تسلی بخش کہا جاسکتا ہے۔

شہناز شیخ کے خیال میں بیجنگ اولمپکس کو ذہن میں رکھتے ہوئے کم از کم چار کھلاڑیوں کی تبدیلی ناگزیر ہے جن میں کچھ سینئر کھلاڑی بھی ہیں جو اپنی خدمات پیش کرچکے ہیں اور جونیئر بھی ہیں جن کی کارکردگی مطلوبہ معیار کی نہیں تھی اور ان کھلاڑیوں کو خود بھی اس بات کا اندازہ ہے۔

شہناز شیخ غیرملکی کوچ کو غیرضروری قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ماضی میں رولینٹ آلٹمینز کا تجربہ سب کے سامنے ہے۔ ان کے ہوتے ہوئے بھی ٹیم کی پوزیشن وہیں کی وہیں رہی۔ غیرملکی کوچ جونیئر اور نچلی سطح پر تو لایا جاسکتا ہے لیکن سینئر ٹیم کے لئے اس کی ضرورت نہیں ہے۔

شہناز شیخ کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے دوران انہوں نے تمام کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع فراہم کیا اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ گول کیپر ناصر احمد کا اعتماد بحال ہوا اور احسان اللہ اور زبیر کی کارکردگی بھی نمایاں طور پر سامنے آئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد