جرمنی: ہاکی عالمی کپ، بارہ ٹیمیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی کے شہر مونشن گلاڈ باخ میں بدھ سے گیارہواں ہاکی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ شروع ہو رہا ہے جس میں بارہ ممالک کی ہاکی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ پاکستان نے چار مرتبہ عالمی کپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ آخری بار سن 1994 میں آسٹریلیا میں ہونے والے عالمی کپ میں پاکستان نے ہالینڈ کو ہرا کر عالمی کپ جیتا تھا لیکن اس کے بعد پاکستان ہاکی کے کسی بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں گولڈ میڈل حاصل نہیں کر سکا۔ پاکستان کو عالمی کپ میں فتح سے ہمکنار کرنے والے سابق المپئین کہتے ہیں کہ پاکستان تب ہی جیت سکتا ہے اگر وہ اپنے روایتی جارحانہ انداز یعنی ایشین سٹائل کی ہاکی کھیلے۔ پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اصلاح الدین کا کہنا ہے کہ وہ مکمل طور پر جارحانہ ہاکی کھیلنے کے حق میں ہیں۔ اصلاح الدین کے مطابق آج کل کے دور میں مصنوعی گھاس پر ہونے والی ہاکی میں اگر کوئی ٹیم یہ سوچ کر ٹورنامنٹ کھیلنے جائے گی کہ اسے دفاعی انداز اپنانا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے گھر سے ہار مان کر نکلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ہمارا دفاع کمزور ہے اسی لیئے ہم نے چمپئنز ٹرافی میں سپین اور ہالینڈ سے زیادہ گول کھائے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ فارورڈ کی تعداد گھٹا کر ایک کھلاڑی دفاع پر لگا دینا چاہیے اس سے تو آپ اپنے اٹیک کرنے کی طاقت کو کم کرتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ دفاعی کھلاڑیوں کو بہتر کیا جائے اور اگر کوئی دفاعی کھلاڑی اچھا نہ کھیلے تو اسے تبدیل کر دیا جائے۔ سابق کپتان اصلاح الدین کے مطابق موجودہ پاکستان کی ٹیم ایسی ہے جو سیمی فائنل کے لیئے کوالیفائی کر سکتی ہے۔ پاکستان کا پول عالمی کپ میں کافی متوازن ہے اور تین ٹیمیں جاپان، نیوزی لینڈ اور ارجنٹینا کو شکست دینا ان کے لیئے آسان ہو گا۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ان تینوں کو بڑے فرق سے شکست دے اور پھر سپین اور آسٹریلیا میں سے اگر وہ ایک سے برابر بھی کھیل جائے تو سیمی فائنل کے لیئے کوالیفائی کر سکتا ہے۔ اصلاح الدین نے کہا کہ پاکستان کی فارورڈ لائن ایسی ہے کہ وہ کسی بھی ٹیم کے خلاف گول کر سکتی ہے لیکن اسے گول کرنے کے مواقع ضائع نہیں کرنے چاھییں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی ٹیم کے پاس بہترین پنیلٹی کارنر لگانے کا ماہر سہیل عباس موجود ہے اگر پاکستان کی ٹیم اپنی ان صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا لے تو بہترین نتائج دے سکتی ہے۔ پاکستان کے ایک اور مایہ ناز فارورڈ سابق المپئین حسن سردار کا بھی یہی کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹیم اٹیکنگ ہاکی یعنی جارحانہ کھیل کر ہی فتح حاصل کر سکتی ہے۔ کئی کھلاڑیوں کو جل دے کر انتہائی خوبصورت انداز میں گول کرنے کی شہرت رکھنے والے حسن سردار کا کہنا ہے کہ ہماری ٹیم نے عالمی کپ اولمپکس اور کئی دوسرے ٹورنامنٹ جارحانہ ہاکی کھیل کر ہی جیتے ہیں اور یہی ہمارا طرہ امتیاز رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’یہ درست ہے کہ ہمارے دفاع میں بہت سنگین خامیاں ہیں اور دفاع میں جو جگہ ہم چھوڑتے ہیں اسے پر کرنا ضروری ہے‘۔ حسن سردار نے کہا کہ جارحانہ ہاکی کھیلنے کے لیئے یہ بھی ضروری ہے کہ ٹیم کا گول کیپر بہترین کھیل کا مظاہرہ کرے تاکہ جوابی حملوں سے نمٹا جا سکے۔ حسن سردار نے عالمی کپ میں پاکستان کی ٹیم کے پول کو سخت قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کا پہلا ہدف سیمی فائنل کے لیئے کوالیفائی کرنا ہوگا اور اس کے لیئے ہر ٹیم کو سامنے رکھ کر حکمت عملی بنانی ہو گی اور کوچ اس میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم کو ردھم میں آنے میں وقت لگتا ہے لیکن یہ عالمی کپ ہے لہذا پاکستان کی ٹیم کو چاہیے کہ جاپان کے خلاف اپنے پہلے میچ ہی سے بھر پور ردھم میں آ جائے جس کا اسے اگلے میچوں میں فائدہ ہو گا۔ حسن سردار نے مزید کہا کہ پاکستان کے فارورڈ ریحان بٹ اور شکیل عباسی، پینلٹی کارنر لگانے کے ماہر سہیل عباس، ٹیم کے کپتان ثقلین اور گول کیپر اگر اپنی سو فیصد صلاحیت کا مظاہرہ کریں تو پاکستان کے لیئے وکٹری سٹینڈ پر پہنچنا کوئی بڑی بات نہیں۔ پاکستان کی ٹیم کے ایک اور سابق کپتان ڈاکٹر عاطف بشیر بھی عالمی کپ میں جارحانہ ہاکی کھیلنے کے حق میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب آپ میچ کے آغاز میں ہی دوسری ٹیم پر حملہ کرتے ہیں تو وہ دباؤ میں آ جاتی ہے اور آپ کھیل پر اپنا کنٹرول کر لیتے ہیں۔ ڈاکٹرعاطف نے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ کو چاہیے کہ ہر لڑکے کو اسی پوزیشن پر کھلائے جس کا وہ ماہر ہو اسی طرح اس سے 100 فیصد کارکردگی کی توقع کی جا سکتی ہے جیسے کہ وسیم احمد کو لیفٹ ہاف پر ہی کھلائیں کیونکہ وہ بہت مضبوط دفاعی کھلاڑی ہے۔ چمپئنز ٹرافی میں انہیں دوسری پوزیشن پر کھلایا گیا اور وہ اچھی کارکردگی نہ دکھا سکے۔ ڈاکٹر عاطف نے کہا کہ اگر پاکستان کی گزشتہ کارکردگی کو مد نظر رکھا جائے تو وکٹری سٹینڈ پر پہنچنے کے امکانات کم لگتے ہیں لیکن پاکستان اگر کمزور حریفوں کو زیادہ گول سے ہرائے تو امکانات بہتر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کی ٹیم پاکستان سے کچھ ڈرتی ہے اگر پاکستان اس کے ساتھ میچ برابر بھی کھیل گیا تو سیمی فائنل میں پہنچ جائے گا۔ 1994 میں پاکستان کو عالمی کپ میں فتح دلانے والی ٹیم کے رکن اور پاکستان ٹیم کے سابق کوچ خواجہ جنید کے خیالات ان تمام المپئینز سے مختلف ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے جارحانہ حکمت عملی اپنائی تو اسے مضبوط ٹیموں سے زیادہ گول سے شکست کا سامنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ’اب ہمیں حقیقت سے نظریں نہیں چرانی چاہیں اور یہ حقیقت ہے کہ جب ہم جارحانہ کھیل کھیلتے ہیں تو ہمارا دفاع اتنا کمزور ہو جاتا ہے کہ کاؤنٹر اٹیک کی صورت میں ہم پر یقینی گول ہو جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی ٹیم نے چمپئنز ٹرافی میں بے حساب گول کھائے‘۔ خواجہ جنید نے کہا کہ یہ بات تو واضح ہے کہ پاکستان کی ٹیم کو اگر عالمی کپ میں جیتنا ہے تو ٹیم بن کر کھیلنا ہوگا اور انفرادی کھیل سے پرہیز کرنا ٹیم مینجمنٹ کو چاہیے کہ عالمی کپ میں اپنے دفاع کو مد نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی بنائے تب ہی ممکن ہے کہ پاکستان کی ٹیم عالمی کپ کے سیمی فائنل تک پہنچ سکے گی۔ انڈیا بمقابلہ جرمنی جرمنی میں ہونے والے گیاروہوں ہاکی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں بدھ کو بھارت اور میزبان جرمنی کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ بھارتی ٹیم کو اپنے گروپ بی میں جرمنی اور ہالینڈ جیسی مضبوط ٹیموں سے سخت مقابلہ ہے۔ | اسی بارے میں ہاکی کے عالمی کپ کے لیئے انڈین ٹیم18 August, 2006 | کھیل ہاکی: پاکستان کی تاریخی شکست 25 July, 2006 | کھیل ورلڈ کپ ہاکی شیڈول کا اعلان12 June, 2006 | کھیل ہاکی:ٹیم مینجر اور نائب کوچ تبدیل10 May, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||