BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارلا خان کہاں پیدا ہوئیں ؟

کارلا خان
کارلا خان کی جائے پیدائش کےبارے میں تنازعہ ہے
سکواش کی پاکستانی یا برطانوی کھلاڑی کارلاخان کہاں پیدا ہوئیں؟ یہ کوئی معلومات عامہ کا سوال نہیں ہے بلکہ اس سوال سے آنے والے دنوں میں سکواش کی دنیا میں ایک تنازعہ پیدا ہو سکتا ہے۔

کولمبو میں جاری دسویں ساؤتھ ایشین گیمز میں کارلاخان کو پاکستان کی نمائندگی کی اجازت اس بنا پر نہیں دی گئی کہ وہ کسی ملک کی نمائندگی کرنے کے لیئے اس ملک میں مستقل پانچ سال قیام کرنے کی شرط پوری کرتیں ہیں۔

تاہم پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) عارف حسن ساؤتھ ایشین گیمز کی ایگزیکٹیو کونسل میں یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کارلا خان کو ان کھیلوں میں شرکت کی اجازت دلانے میں کامیاب ہوگئے۔

اس کے باوجود جب ٹیم مقابلے شروع ہوئے تو سری لنکن سکواش حکام نے یہ اعتراض کیا کہ کارلاخان کے بارے میں پاکستان کا یہ دعوی غلط ہے کہ وہ پشاور میں پیدا ہوئی ہیں بلکہ ان کی پیدائش لندن کی ہے۔

اگرچہ یہ اعتراض ساؤتھ ایشین گیمز میں کارلاخان کو شرکت سے نہ روک سکا اور کسی بین الاقوامی مقابلے میں ان کا پاکستان کی نمائندگی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگیا لیکن مستقبل میں یہ مسئلہ سنگین نوعیت اختیار کرسکتا ہے۔

کارلاخان کے پاکستانی پاسپورٹ پر ان کی پیدائش پشاور کی درج ہے جبکہ ان کے برطانوی پاسپورٹ میں سری لنکن سکواش حکام کے بقول پیدائش لندن کی ہے۔

اگر پاکستان سکواش فیڈریشن نے کارلاخان کو پاکستان کی نمائندگی کی خاطر پاکستانی پاسپورٹ بنواکر اس میں ان کی پیدائش پشاور درج کرائی ہے تو یہ ان کی بہت بڑی تکنیکی غلطی ہے کیونکہ کولمبو میں ہی یہ اعتراض سری لنکا کی طرف سے سامنے آگیا کہ کارلاخان کے برطانوی پاسپورٹ پر پشاور نہیں بلکہ جائے پیدائش لندن لکھی ہے۔

ظاہر ہے سری لنکن اس نکتے کو ایشین گیمز میں بھی استعمال کرسکتے ہیں اور اس سلسلے میں انہیں بھارت ملائشیا سنگاپور اور ہانگ کانگ کی حمایت بھی مل سکتی ہے۔

پاکستان سکواش فیڈریشن کافی عرصے سے کارلاخان کو پاکستانی ثابت کرانے میں ناکام رہی ہے۔ پی اے او کے صدر جنرل عارف حسن کا یہ کہنا کہ سیف گیمز میں شرکت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کارلا خان ایشین گیمز میں بھی شرکت کی اہل ہوگئی ہیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ انہیں ایشین گیمز سے قبل اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے کوششیں تیز کرنی ہوں گی لیکن اگر پاسپورٹ کا قضیہ سر اٹھاتا ہے تو اس سے پاکستان کو مشکلات درپیش آ سکتی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد