سوزانتھیکا نئے ریکارڈ کے لیئے تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایتھلیٹکس کی سری لنکن ملکہ کہلانے والی سوزانتھیکا جے سنگھے ساؤتھ ایشین گیمز کو نئے ریکارڈز کے ساتھ دو طلائی تمغے حاصل کرکے الوداع کہنا چاہتی ہیں۔ تیس سالہ سوزانتھیکا جے سنگھے نے1995ء میں مدراس میں منعقدہ ساتویں سیف گیمز میں سو اور دو سو میٹرز میں دو طلائی تمغے حاصل کئے تھے جس کے بعد انہوں نے2004 کے اسلام آباد ساؤتھ ایشین گیمز کی دوسو میٹرز میں گولڈ میڈل اپنے نام کیا تھا۔ سوزانتھیکا جے سنگھے کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہموطنوں کے سامنے نہ صرف طلائی تمغے جیتنا چاہتی ہیں بلکہ ان کی کوشش ہوگی کہ وہ سو اور دو سو میٹرز میں ساؤتھ ایشین گیمز کے نئے ریکارڈز بھی قائم کریں۔ سوزانتھیکا کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں تمغہ حاصل کرنے والی واحد سری لنکن ایتھلیٹ ہیں۔ انہوں نے1997ء میں ایتھنز میں ہونے والے عالمی مقابلے میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا لیکن ڈوپ ٹیسٹ میں یہ پتہ چلا کہ سوزانتھیکا نے قوت بخش ادویہ کا استعمال کیا تھا جس پر انہیں پابندی کا سامنا کرنا پڑا تاہم کافی تگ ودو کے بعد سوزانتھیکا خود کو اس الزام سے بری کرانے میں کامیاب ہوگئیں۔ سوزانتھیکا جے سنگھے کی دوسری سب سے بڑی کامیابی سڈنی اولمپکس میں رہی جہاں انہوں نےدو سو میٹرز میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔سری لنکا کی اولمپک تاریخ میں ان سے پہلے صرف ڈنکن وہائٹ نے1948 کے لندن اولمپکس کی چار سو میٹرز ہرڈلز میں چاندی کا تمغہ حیتا تھا۔ غربت میں آنکھ کھولنے والی جےسنگھے کا بچپن اپنی فیملی کے دوسرے افراد کے ساتھ بیڑی سگریٹ پر لیبل لگا کر چند روپے کی آمدنی کے ساتھ آگے بڑھا لیکن سخت محنت اور اتاچڑھاؤ کے بعد وہ شہرت کی بلندی تک جا پہنچیں تاہم ان کا کریئر خاصا ہنگامہ خیز رہا ہے۔ ڈوپ ٹیسٹ میں ناکامی کو انہوں نے اپنے خلاف سازش قرار دیا۔انہوں نے وزارت کھیل کے ایک اعلی افسر پر انہیں جنسی طور ہراساں کرنے کا الزام عائد کر کے سری لنکا چھوڑ کر امریکہ میں سکونت اختیار کرلی۔ سڈنی اولمپکس میں انہوں نے اپنی کلائی پر زرد پٹی (یلو بینڈ) باندھ رکھی تھی جس کا مطلب الیکشن میں تشدد اور دھاندلی سے نفرت تھا۔ سوزانتھیکا جے سنگھے کا کہنا ہے کہ زندگی ان کے لیئے کبھی بھی آسان نہیں رہی لیکن وہ کبھی مایوس نہیں ہوئیں اور انہوں نے ہر چیلنج کا مقابلہ کیا ہے چاہے وہ ٹریک اینڈ فیلڈ پر ہوں۔ | اسی بارے میں بارودی سرنگ پھٹنے سے7 ہلاک06 December, 2005 | آس پاس کھلاڑی اور خون کا ’نشہ‘ | کھیل جناح سٹیڈیم میں ڈر میرے ساتھ دوڑ رہا تھا08 April, 2004 | Guest | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||