انضمام کے خلاف سماعت ملتوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کے خلاف بال ٹیمپرنگ اور کرکٹ کے کھیل کو بدنام کرنے کے الزامات پر بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی طرف ہونے والی سماعت کے ملتوی کیئے جانے کےبعد کرکٹ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تنازعہ پاکستان کے دورۂ انگلینڈ کے ختم ہونے کے بعد ہی اٹھایا جائے گا۔ بی بی سی اردو سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے آئی سی سی کے سابق سربراہ احسان مانی اور کرکٹ کے ماہر اور صحافی قمر احمد نے کہا کہ اب اس معاملے کی سماعت پاکستان کے دورۂ انگلینڈ کے بعد ہی متوقع ہے۔ قمر احمد نے کہا کہ قوی امکان یہی ہے کہ انضمام الحق کے خلاف جمعہ کو ہونے والی آئی سی سی کی سماعت اس لیئے ملتوی کی گئی ہے کہ انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان ایک روزہ سیریز کو بچایا جا سکے جس کی منسوخی سے لاکھوں پونڈ کے نقصانات ہونے کا اندیشہ ہے۔ قمر احمد نے کہا کہ آئی سی سی کے چیف امپائیر رنجن مدوگالے کی عدم دستیابی کی وجہ سے جمعہ کو ہونے والی سماعت ملتوی کی گئی ہے لیکن خیال یہی کیا جا رہا ہے کہ یہ سماعت دورۂ کی منسوخی کی صورت میں ہونے والی مالی نقصان کے خدشے کے پیش نظر ہی ملتوی کی گئی ہے۔
قمراحمد نے کہا کہ آئی سی سی نے کہا کہ سماعت غیر معینہ مدت کے لیئے ملتوی کی جارہی ہے اور ’غیر معینہ مدت‘ کا کوئی تعین نہیں ہے۔ پاکستان کی طرف سے ایک قانونی فرم سے رجوع کرنے کے حوالے سے جواب دیتے ہوئے قمر احمد نے کہا کہ آئی سی سی کی انکوائری میں اگر انضمام کے خلاف کرکٹ کو بدنام کرنے یا بال ٹیمپرنگ کے الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو اس کے پاس ان الزامات کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی امکان کے پیش نظر وکیلوں سے رجوع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انیس سو تہتر میں جب کیری پیکر نے دنیا کے بڑے بڑے کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کر لی تھیں تو اس وقت انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے بہت سے کھلاڑیوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں نے اس پابندی کے خلاف عدالت میں چیلنج کر دیا تھا اور عدالت نے کھلاڑیوں کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔ قمر احمد نے کہا کہ اوول پر ہونے والے میچ کو چھبیس کیمروں کی مدد سے براہراست نشر کیا جا رہا تھا اور اس کے باوجود بال ٹیمپرنگ کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ آئی سی سی کے سابق سربراہ احسان مانی نے آئی سی سی کے موجودہ سربراہ میلکم سپیڈ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئی سی سی کی عمومی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے پاس ڈیرل ہیئر کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں تو انہیں آئی سی سی کو پیش کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکن کرکٹ بورڈ نے بھی کچھ سال قبل ڈیرل ہیئر کے خلاف آئی سی سی کو شکایت کی تھی جس کے بعد کئی سال تک سری لنکا کے میچوں میں امپائرنگ نہیں کرنے دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو تحریری شکایت کرنی چاہیے۔ احسان مانی نے کہا کہ ڈیرل ہیئر ایک تجربہ کار امپائیر ہیں اور وہ بین الاقوامی کرکٹ میں دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔ احسان مانی نے کہا کہ ثقافتی فرق کی وجہ سے ہوسکتا ہے ان کی ایشیائی کھلاڑیوں سے ذہنی ہم آہنگی نہ ہو پائی ہو جس کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ | اسی بارے میں ’احتجاج کی وجہ صحیح مگر طریقہ غلط‘21 August, 2006 | کھیل ڈیرل ہیئر اپنے فیصلے پر قائم22 August, 2006 | کھیل انضمام: سماعت ملتوی ہونے کا امکان23 August, 2006 | کھیل انضمام: الزامات کی سماعت ملتوی23 August, 2006 | کھیل پاکستانی بورڈ کی درخواست مسترد23 August, 2006 | کھیل سوزانتھیکا نئے ریکارڈ کے لیئے تیار 23 August, 2006 | کھیل کرکٹ تنازع امریکی اخبارات میں23 August, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||