پاکستانی بورڈ کی درخواست مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے چیف ایگزیکٹو میلکم سپیڈ نے کہا ہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ میچ کے متنازعہ اختتام اور ڈیرل ہیئر کی جانب سے انگلینڈ کوفاتح قرار دیے جانے کے بعد پاکستان کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ ڈیرل ہیئر کو میچ میں بطور امپائر تعینات کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے۔ ٹیسٹ کرکٹ کی 129 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ چائے کے وقفے کے بعد ایک ٹیم کے میدان میں اترنے سے انکار کے باعث دوسری کو فاتح قرار دیا گیا ہے۔ پاکستانی ٹیم نے یہ قدم امپائر کے اس فیصلے کے خلاف احتجاجاً اٹھایا تھا جس کے تحت ڈیرل ہیر نے ٹیم پر بال ٹیمپرنگ کاالزام لگاتے ہوئے سزا کے طور پر انگلینڈ کو پانچ رن دے دیئے تھے۔
میچ کے امپائروں ڈیرل ہیئر اور بلی ڈوکٹروو نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب گیند نے ریورس سونگ ہونا شروع کیا۔ ڈیرل ہیئر سے ماضی میں بھی پاکستانی ٹیم کے تنازعات رہے ہیں جس کی بنیاد پر ٹیم نے درخواست کی تھی کہ انہیں پاکستان کے میچوں میں امپائر نہ رکھا جائے۔ پی سی بی کے چیئرمین شہریار خان کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم آئی سی سی کو ’ہدایات‘ نہیں دے رہی تھی۔ ’ہماری ٹیم کو ڈیرل ہیئر کے رویے سے شکایت ہے اور ماضی میں ایک دو بار ڈیرل ہیئر کے فیصلوں پر ٹیم ناخوش ہوئی ہے اور اگر آئی سی سی کرکٹ بورڈز کے لیئے حساس ہے تو وہ ہماری بات کو ضرور اہمیت دے گا‘۔ تاہم میلکم، جنہیں منگل کو شہریار خان کی جانب سے خط ملا ہے، کہتے ہیں کہ امپائروں کی تعیناتی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ انہوں نے دونوں امپائروں کے موقف کی حمایت بھی کی ہے۔ میلکم سپیڈ نے کہا ’یہ بہت افسوسناک ہے کہ بھرے ہوئے میدان میں اتنا اچھا میچ مناسب طور پر ختم نہ ہوسکا۔ میچ کا مناسب اختتام ہی ایک اچھی سیریز پر منتج ہوسکتا تھا‘۔
انہوں نے کہا ’آئی سی سی میدان میں موجود امپائروں کے فیصلے تبدیل نہیں کرسکتا کیونکہ وہ وہاں موجود ہوتے ہیں اور کرکٹ قوانین کے مطابق کھیل کے منصفانہ یا غیر منصفانہ ہونے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ دونوں امپائروں کا انگلینڈ کو فاتح قرار دینا درست تھا‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’امپائروں کی تعیناتی کا فیصلہ صرف آئی سی سی کے اختیار میں ہے، انفرادی بورڈ یہ فیصلہ نہیں کرسکتے۔ یہ فیصلہ کسی بھی خوف اور خدشے کے تحت نہیں کیا جاتا، یہ صرف امپائروں کی کارکردگی پر منحصر ہوتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کے قوانین کے تحت انضمام الحق پر بطور پاکستانی کیپٹن، بال ٹیمپرنگ اور میچ کو متنازعہ بنانے کے الزامات عائد کیئے گئے ہیں۔
انضمام الحق جمعہ کو لندن میں آئی سی سی کی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ انضمام کی جانب سے مقدمے کی وکالت لندن کے ایک وکیل مارک گے کریں گے۔ فیصلے کے بعد پاکستان پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز نہ کھیلنے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ پاکستان کے کوچ باب وولمر کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ فیصلہ انضمام کے خلاف ہوسکتا ہے۔ وولمر کا کہنا ہے ’ہمیں معلوم ہے کہ آئی سی سی اپنے سٹاف کی حمایت کرتا ہے اور امپائر انہیں کے سٹاف کا حصہ ہیں‘۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق ایک روزہ سیریز نہ کھیلے جانے کی صورت میں انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کو دس ملین پاؤنڈ تک کاک نقصان ہوسکتا ہے۔ اس سے قبل پاکستان جمعرات کے وارم اپ میچ میں شرکت سے بھی انکار کرسکتا ہے۔ |
اسی بارے میں انضمام نہیں تو ون ڈے نہیں:وولمر 22 August, 2006 | کھیل ’احتجاج کی وجہ صحیح مگر طریقہ غلط‘21 August, 2006 | کھیل پاکستان کا آئی سی سی سے احتجاج21 August, 2006 | کھیل بال ٹیمپرنگ الزامات کی تاریخ21 August, 2006 | کھیل نہ کھیل، نہ کھلاڑیوں کے لیئے اچھا ہوا21 August, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||