فیفا نے زیدان پر پابندی عائد کر دی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فٹ بال کے بین الاقوامی ادارے فیفا نے فرانسیسی فٹ بال ٹیم کے سابق کپتان زیدان پر تین میچ نہ کھیلنے کی پابندی اور تین ہزار دو سو ساٹھ پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کردیا ہے۔ جرمنی میں ہونے والے حالیہ ورلڈ کپ کے فائنل میں اٹلی کے خلاف کھیلتے ہوئے زیدان نے اطالوی کھلاڑی ماترازی کو سر سے ٹکر مار کر گرادیا تھا۔ میچ کے دوران اطالوی کھلاڑی ماترازی نے زیدان کو کچھ کہا جس پر فرانسیسی کپتان نے غصے میں ان کے سینے پر سر ٹکرادیا۔ زیدان نے میچ کے چند روز بعد ایک پریس کانفرنس کرکے فٹ بال کے شائقین، خصوصی طور پر اس وقت ٹی وی پر میچ دیکھنے والے بچوں، سے معافی مانگ لی تھی۔ زیدان پر تین میچ نہ کھیلنے کی فیفا کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندی کا کوئی اثر نہیں ہوگا کیوں کہ ورلڈ کپ کے بعد زیدان پہلے سے طےشدہ ایک فیصلے کے تحت مستفعیٰ ہوگئے تھے۔ تاہم علامتی سزا کے طور پر زیدان فیفا کے لیے تین دن کام کرنے کے لیے راضی ہوگئے ہیں۔ فیفا نے اطالوی کھلاڑی ماترازی پر بھی دو ہزار ایک سو ستر پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کیا ہے اور دو میچ نہ کھیلنے کی پابندی لگادی ہے۔ لیکن فیفا نے یہ انکشاف نہیں کیا ہے کہ ماترازی نے کون سے بات کہی جس نے زیدان کو مشتعل کردیا۔ فیفا کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ماترازی اور زیدان نے ’اعتراف کیا ہے کہ ماترازی کی بات اشتعال انگیز تھی لیکن اس کی نوعیت نسلی تعصب کی نہ تھی۔‘ ورلڈ کپ کے فائنل کے دوران اس واقعے کے باوجود فیفا نے کہا ہے کہ زیدان کو ورلڈ کپ کے دوران بہترین کھلاڑی ہونے کے لیے ملنے والا اعزاز ’گولڈ بوٹ‘ واپس نہیں لیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں اٹلی عالمی فٹبال کپ چیمپئن بن گیا09 July, 2006 | کھیل زیدان: عالمی کپ کے بہترین کھلاڑی10 July, 2006 | کھیل زیدان کہانی کا انجام 10 July, 2006 | کھیل فرانس ورلڈ کپ کے فائنل میں05 July, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||