’ماں،بہن سےمتعلق بات نےمشتعل کیا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زین الدین زیدان نے فٹبال ورلڈ کپ کے فائنل میں اٹلی کے دفاعی کھلاڑی میتارازی کو ٹکر مارنے پر معذرت کی ہے۔ فرانسیسی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں چونتیس سالہ زیدان کا کہنا تھا کہ’ میں ان تمام بچوں سے معذرت خواہ ہوں جنہوں نے یہ واقعہ دیکھا۔ میں اس کا کوئی جواز پیش نہیں کر رہا اور سچائی بیان کر رہا ہوں‘۔ زیدان نے یہ بتلانے سے انکار کیا کہ میتارازی نے انہیں ایسا کیا کہا کہ وہ مشتعل ہو گئے تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت ذاتی تبصرہ تھا اور اس کا تعلق ’میری والدہ اور بہن سے تھا‘۔ زیدان کا یہ بیان میتارازی کے اس بیان کی نفی کرتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے اگرچہ زیدان کی توہین کی تھی لیکن اس میں زیدان کی والدہ کا کہیں کوئی ذکر نہیں تھا۔ میتارازی نے ایک اطالوی اخبار کو انٹرویو میں کہا تھا کہ’میں نے زیدان کو دہشت گرد نہیں کہا اور یقیناً ان کی ماں کا ذکر نہیں کیا۔ میرے لیئے ماں ایک مقدس رشتہ ہے‘۔ زیدان کا تعلق مارسے سے ہے اور وہ الجزائر کے تارکینِ وطن والدین کی اولاد ہیں۔ زیدان کو اپنے فٹبال کیرئر کے دوران اپنے خاندانی پس منظر کے حوالے سے متعدد بار نسلی تبصروں کا سامنا رہا ہے۔ ادھر ورلڈ کپ کی گورننگ باڈی فیفا کا موقف ہے کہ ان حالات سے مکمل طور پر پردہ اٹھایا جائے جن کے تحت فائنل میں یہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ فیفا کے صدر سیپ بلاٹرز نے کہا کہ فیفا زیدان سے ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز بھی واپس لے سکتی ہے۔ فیفا کے صدر کا کہنا ہے کہ اگرچہ بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ صحافیوں کی تنظیم دیتی ہے لیکن فیفا ان معاملات میں مداخلت کا حق رکھتی ہے۔ |
اسی بارے میں ’میتاراتزی نے بدکلامی کی تھی‘10 July, 2006 | صفحۂ اول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||