زیدان کہانی کا انجام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کے کوچ ریمن ڈومینیک نے کہا ہے کہ عالمی کپ کے فائنل کے دوران ریفری کو فرانس کے کپتان زین الدین زیدان کو زیادہ تحفظ فراہم کرنا چاہیے تھا۔ زیدان کو اضافی وقت کے دوران اٹلی کے کھلاڑی مارکو ماتیرازی کو ٹکر مارنے کی وجہ سے ریفری نے سرخ کارڈ دکھا کر میچ سے نکال دیا۔ فرانس کے صدر ژاک شراک نے جو سٹیڈیم میں میچ دیکھ رہے تھے کہا کہ مجھےنہیں معلوم کے زیدان کو باہر کیوں بھیجا گیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ زیدان کا بہت احترام کرتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ کھیل کی اقدار کو بلند رکھا، اچھی عادات کے مالک ہیں اور جنہوں نے فرانس اور فرانس کے کھیل کو عزت بخشی۔ فرانس کے کوچ نے زیدان کے ٹکر مارنے کے بارے میں کہا کہ ’جب کسی کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے جس سے زیدان دو چار تھے اور ریفری بھی کچھ نہ کرے تو بات سمجھ میں آتی ہے، اس کو درگزر نہیں کیا جا سکتا لیکن پھر بھی آپ سمجھ سکتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ زیدان کو جو کچھ ہوا اس پر افسوس ہے لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا زیدان نے معافی مانگی ہے یا نہیں۔ ڈومینیک نے کہا کہ زیدان کا زبردست کیریئر تھا، انہوں نے عالمی کپ میں بھی اچھی کارکردگی دکھائی اور اس طرح کا اختتام بہت افسوس کی بات ہے۔ فرانس کے کوچ نے کہا کہ کچھ تو ضرور ہوا ہوگا لیکن وہ نہیں جانتے۔ ’میرا نہیں خیال کہ انہوں نے اچانک ٹکر ماری ہوگی اور وہ میدان سے باہر جانا چاہتے ہوں گے، کچھ بات ضرور ہو گی‘۔ زیدان تقسیم انعامات کی تقریب میں بھی شریک نہیں ہوئے اور مبصرین کے نزدیک یہ ایک انتہائی خوبصورت کہانی کا افسوسناک اختتام تھا۔ | اسی بارے میں اٹلی عالمی فٹبال کپ چیمپئن بن گیا09 July, 2006 | کھیل فرانس ورلڈ کپ کے فائنل میں05 July, 2006 | کھیل ورچوئل ریپلے: ورلڈ کپ فائنل09 July, 2006 | کھیل بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||