سیاست کا شکار ہوا ہوں، رحمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی سکواش کوچ کے عہدے سے مستعفی ہوکر کویت میں کوچنگ کی پیشکش قبول کرنے والے رحمت خان نے اپنے فیصلے کا سبب پاکستان سکواش فیڈریشن کی سیاست کو قرار دیا ہے۔ رحمت خان آئندہ چند روز میں کویت روانہ ہونے والے ہیں جہاں وہ کوچنگ کی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ کراچی میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رحمت خان نے دلبرداشتہ لہجے میں کہا کہ وہ پاکستان سکواش کی سیاست کا شکار ہوئے ہیں۔ جہانگیر خان کو فاتح عالم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے رحمت خان پانچ سال سے پاکستان کے کوچ تھے لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ تعین ہی نہیں ہوسکا کہ وہ قومی کوچ تھے بھی یا نہیں؟ جب ان سے اس کی وضاحت کرنے کے لیے کہا گیا تو رحمت خان نے کہا کہ پاکستان سکواش فیڈریشن کے سابق سربراہ ائرچیف مارشل مصحف علی میر مرحوم نے انہیں قومی کوچ مقرر کیا تھا لیکن ان کے بعد ان کی موجودگی میں ڈائریکٹر آف کوچز کا عہدہ متعارف کرایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ میں نے جن جونیئر کھلاڑیوں پر محنت کی وہ کوچنگ کا پروگرام مربوط نہ ہونے کے سبب سینئر سطح پر جاکر غائب ہوگئے۔ سینئر کھلاڑیوں نے ان کے ساتھ ٹریننگ کرنے سے انکار کردیا جس کی وجہ فیڈریشن کی سیاست تھی۔ ان کھلاڑیوں کو ورغلایا گیا جس کی دو مثالیں حقائق بتانے کے لیے کافی ہیں۔ ورلڈ جونیئر ایونٹ سے قبل عمران محب کو جان شیر خان نے دباؤ ڈالتے ہوئے چنئی بھارت نہیں جانے دیا وہ باصلاحیت کھلاڑی تھا لیکن سیاست کی نذر ہوگیا۔ دوسری مرتبہ فرحان محبوب اور عامراطلس نے ان کے ساتھ ٹریننگ کرنے سے انکار کردیا۔ وہ بلند بانگ دعووں کے ساتھ برٹش اوپن جونیئر میں گئے لیکن کامیاب نہ ہوسکے‘۔ رحمت خان کا کہنا ہے کہ دکھ اس بات کا ہے کہ فیڈریشن ان کھلاڑیوں اور ان کے بڑوں سے بلیک میل ہوتی رہی ہے۔ رحمت خان کی کوچنگ میں پاکستان نے دو عالمی جونیئر اعزازات اور متعدد برٹش اوپن جونیئر ٹائٹلز جیتے ہیں اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ جب وہ کوچ بنے تھے تو اس وقت پاکستان کے پاس کوئی بھی بڑا ٹائٹل نہیں تھا لیکن ان کی بھرپور توجہ اور کھلاڑیوں کی محنت کے نتیجے میں پاکستان نے دو بار ورلڈ جونیئر اعزاز جیتا۔ ایشین جونیئر چیمپئن شپ جیتی اور برٹش اوپن جونیئر میں کامیابیاں سمیٹیں اس وقت بھی یہ کہا گیا کہ یہ جونیئر کھلاڑی کچھ بھی نہیں کرسکتے لیکن نتائج سب کے سامنے ہیں۔ رحمت خان کا کہنا ہے کہ فیڈریشن کے سکریٹری کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ انہیں فرائض کی انجام دہی میں مکمل آزادی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ کوچ تھے لیکن فیڈریشن کسی بھی فیصلے میں انہیں اعتماد میں نہیں لیتی تھی۔ سیف گیمز سے دو دن پہلے نیا کوچ لا کر انہیں ہٹادیا گیا۔ اس کے علاوہ صدر پرویز مشرف نے ورلڈ جونیئر ٹائٹل جیتنے پر انہیں پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا تھا جو انہیں نہیں ملے۔ رحمت خان کا کہنا ہے کہ انہیں تمغۂ امتیاز بھی سکواش فیڈریشن کے کہنے پر نہیں ملا ہے۔ رحمت خان کا کہنا ہے کہ وہ یہ سب کچھ اس لیے کہہ رہے ہیں کہ آنے والوں کو حقیقت کا پتہ رہے۔انہیں پاکستان سکواش فیڈریشن کے نئے سربراہ سے بڑی توقعات وابستہ ہیں کہ وہ حالات بدلنے کےلیے اقدامات کریں گے۔ | اسی بارے میں رحمت خان کویت کے قومی کوچ مقرر19 April, 2006 | کھیل سکواش: رحمت خان مستعفی30 March, 2006 | کھیل سکواش: رحمت خان کوچ رہیں گے 10 February, 2005 | کھیل سکواش کوچ سے بدتمیزی پر سزا12 May, 2005 | کھیل سکواش چمپئن شپ، انگلینڈ فاتح14 December, 2005 | کھیل سکواش کے قومی کوچ کا فیصلہ09 February, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||