ڈیوس کپ انڈیا: پاکستان کا عزم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی ٹینس ٹیم ایشیا اوشینا گروپ ون ڈیوس کپ ٹائی میں شرکت کے لیے پیر کو انڈیا کے شہر ممبئی روانہ ہوئی۔ پاکستان اور انڈیاڈیوس کپ ٹائی میں پینتیس سال کے عرصے کے بعد آمنے سامنے ہوں گے۔ پاکستان کی ٹیم اعصام الحق، عقیل خان، عاصم شفیق اور جلیل خان پر مشتمل ہے۔ پاکستان ڈیوس کپ ٹائی میں زیادہ تر اعصام الحق اور عقیل خان پر ہی انحصار کرتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کھیلنےوالے پاکستان کے سٹار ٹینس کھلاڑی اعصام الحق نے انڈیا روانگی سے پہلے کہا کہ اگر چہ پاکستان ڈیوس کپ میں کبھی بھی انڈیاسے نہیں جیت سکا اور انڈیا کی موجودہ ڈیوس کپ ٹیم بھی ہم سے مضبوط ہے لیکن ہم بھر پور کوشش کریں گے کہ انہیں ہرا کر ایک نئی تاریخ رقم کریں۔ اعصام نے کہا کہ جب سے انہوں نے ٹینس شروع کی ان کا مقابلہ ڈیوس کپ میں کبھی انڈیاسے نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میری ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ ہم بھی کرکٹ، ہاکی اور دوسرے کھیلوں کی طرح اپنے روایتی حریفوں کے ساتھ مقابلہ کریں کیونکہ جب بھی پاکستان اور انڈیاکسی کھیل میں آمنے سامنے ہوتے ہیں تو دونوں ملکوں کے لوگ اسی کھیل میں دلچسپی لیتے ہیں۔ اعصام کے مطابق انڈیا اور پاکستان کے درمیان اس ڈیوس کپ ٹائی سے دونوں ملکوں خصوصا پاکستان میں ٹینس کے کھیل کو بھی مقبولیت ملے گی۔ اعصام نے کہا کہ وہ گزشتہ دو ماہ سے سپین میں تربیت کر رہے تھے اور وہ اس وقت اچھی فارم میں ہیں۔ عقیل خان پاکستان کے نمبر ایک قومی کھلاڑی ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ بہت پر جوش ہیں کہ وہ اپنے روایتی حریف ملک کے ٹینس کھلاڑیوں سے کھیلنے جا رہے ہیں۔ عقیل خان نے کہا کہ انڈیاکے پاس رمیش بھوپتی اور لیآندر پیز جیسے تجربہ کار کھلاڑی ہیں لیکن میرے خیال میں وہ دونوں ڈبلز کے زیادہ اچھے کھلاڑی ہیں اور سنگلز میں ان کی مہارت زیادہ نہیں اور ہم انہیں سنگلز میں ہرا کر ٹائی جیت بھی سکتے ہیں۔ عقیل خان نے کہا کہ انڈیاکے خلاف پہلی بار مقابلے کا ان پر کچھ کچھ دباؤ بھی ہے لیکن ہماری کوشش ہو گی کہ جذبے سے کھیلیں۔
انڈیااور پاکستان کے درمیان یہ ڈیوس کپ ٹائی گراس کورٹ پر کھیلی جائے گی اسی لیے پاکستان کے ان کھلاڑیوں کا پندرہ روزہ تربیتی کیمپ باغ جناح لاہور کے سرسبز گراس کورٹ پر لگایا گیا جس میں سابق ڈیوس کپ کھلاڑی رشید ملک نے ان کی پربیت کی۔ رشید ملک نے کہا ہے کہ انڈیاکو ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کا کافی فائدہ ہو گا انہوں نے حقیقت پسندانہ انداز میں کہا کہ بھارتی ٹیم کافی بہتر ہے لیکن انہیں سخت مقابلے کا سامنا کرنا ہو گا۔ | اسی بارے میں پاکستان کے کھلاڑی اور کلے کورٹ06 May, 2005 | کھیل عالمی کوالیفائنگ راؤنڈ میں01 May, 2005 | کھیل اوشینا ڈیوس کپ، پاکستانی برتری30 April, 2005 | کھیل ڈیوس کپ کا لاہور میں آغاز29 April, 2005 | کھیل اسلامک گیمز سے ٹیم کی واپسی22 April, 2005 | کھیل کرکٹ میں کامیابی ، ہاکی میں صرف دعوے23 December, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||