سنہالیز میں بڑے سکور کی توقع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تین ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کا تیسرا میچ بدھ کو سنہالیز سپورٹس کلب گراؤنڈ میں کھیلا جارہا ہے۔ سیریز کا پہلا میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا جبکہ دوسرے میچ میں پاکستان نے چار وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔ پاکستانی ٹیم ایک تبدیلی کے ساتھ میدان میں اترے گی۔گزشتہ پانچ اننگز میں صرف43 رنز بنانے والے آؤٹ آف فارم سلمان بٹ کی جگہ بائیں ہاتھ کے افتتاحی بلے باز عمران فرحت کو موقع دیا جائے گا اور وہ شعیب ملک کے ساتھ اننگز کا آغاز کریں گے۔ عمران فرحت نے23 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں ایک سنچری اور4 نصف سنچریوں کی مدد سے724 رنز بنائے ہیں۔ کپتان انضمام الحق کو توقع ہے کہ ان کی ٹیم سیریز جیتنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ انہیں پریماداسا کرکٹ اسٹیڈیم کے مقابلے میں سنہالیز سپورٹس کلب کی وکٹ مختلف ہونے کی بھی توقع ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سنہالیز اسپورٹس گراؤنڈ کی فیلڈ تیز دکھائی دیتی ہے، وکٹ بھی مختلف ہوسکتی ہے جس پر دو سو پچاس سے دو سو ساٹھ رنز اچھا سکور ہو سکتا ہے۔ اسی طرح کے خیالات پاکستانی کوچ باب وولمر اور سری لنکن کپتان مہیلا جے وردھنے بھی رکھتے ہیں۔ مہیلا جے وردھنے کا کہنا ہے کہ یہ ان کا ہوم گراؤنڈ ہے اور یہاں کی وکٹ عموماً سیدھی اور بیٹنگ کے لیئے آئیڈیل ہوتی ہے جس پر ان کے خیال میں’دو سو ساٹھ محفوظ سکور ہوگا لیکن یہاں تین سو رنز بھی بنے ہیں‘۔ جے وردھنے اس تاثر کو درست نہیں سمجھتے کہ انہیں کپتانی اور بیٹنگ کے دوہرے دباؤ کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اسے دباؤ نہیں ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ پورے کیریئر میں وہ بیٹنگ کی ذمہ داری نبھاتے آئے ہیں اور رہی بات کپتانی کی تو وہ اسے بوجھ نہیں سمجھتے۔ سری لنکن کپتان کے خیال میں نوجوان کھلاڑیوں کو کسی دباؤ کے بغیران کی صلاحیتوں کے اظہار کا بھرپور موقع دیا جارہا ہے کیونکہ دباؤ برداشت کرنے کے لیئے سینیئر کھلاڑی موجود ہیں۔
مہیلا جے وردھنے اس بات سے قطعاً پریشان نہیں کہ دونوں ون ڈے میچوں میں شہرۂ آفاق سپنر مرلی دھرن کو وکٹیں نہیں ملیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ون ڈے میں اہم بات یہ ہوتی ہے کہ آپ کے اہم بولر رنز کے معاملے میں کفایتی ثابت ہوں اور مرلی دونوں میچوں میں کفایتی بولر رہے جس کی انہیں خوشی ہے۔ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ہونے والی اس سیریز میں تماشائیوں کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر رہی ہے حالانکہ سری لنکن ٹیم چھ ماہ بعد اپنے ملک میں سیریز کھیل رہی ہے۔ دونوں میچوں میں تماشائیوں کی تعداد بہت کم رہی بارش نے پہلا میچ متاثر کیا تھا جس کے بعد دونوں کرکٹ بورڈز نے بقیہ دونوں میچوں میں بارش اور خراب موسم کے پیش نظر اضافی دن رکھنے پر اتفاق کیا۔ | اسی بارے میں ’غیر ضروری دفاعی کھیل ٹھیک نہیں‘20 March, 2006 | کھیل وکٹ اچھی نہیں تھی: انضمام الحق19 March, 2006 | کھیل کولمبو میں پاکستان کی فتح19 March, 2006 | کھیل سری لنکا: بقیہ ون ڈے کیلیےاضافی دن18 March, 2006 | کھیل سری لنکن کپتان سیریز سے باہر 18 March, 2006 | کھیل وکٹ مشکل تھی:وولمر17 March, 2006 | کھیل کولمبو: شدید بارش، میچ ختم17 March, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||