جیتتے جیتتے، نیوزی لینڈ ہار گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ویلنگٹن میں بدھ کو آسٹریلیا نے ایک دلچسپ مقابلے کے بعد نیوزی لینڈ کو جیت کے لیے درکار دو رنز بنانے سے روک کر دوسرے ایک روزہ میچ میں بھی فتح حاصل کر لی ہے۔ میچ جیتنے کے لیے نیوزی لینڈ کو دو رنز چاہئیں تھے لیکن اس کے دو بلے باز یہ رنز نہ بنا سکے۔ آخری اوور کی آخری دو گیندوں میں جب اسے تین رنز کی ضرورت تھی اس کے دو کھلاڑی آؤٹ ہوگئے۔ تین میچوں کی اس سیریز کا پہلا میچ بھی آسٹریلیا کی ٹیم جیتی تھی۔ آسٹریلیا کے اینڈریو سمنڈز نے ایک سو چھپن رنز بنائے جو نیوزی لینڈ کے خلاف آسٹریلیا کے کسی کھلاڑی کا سب سے بڑا سکور ہے۔ مائکل کلارک نے بیاسی رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے۔ ان دونوں کھلاڑیوں کی کارکردگی کی بدولت آسٹریلیا کی ٹیم نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر 322 رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم ابتداء میں زیادہ اچھا کھیل پیش نہ کر سکی اور لُو ونسٹ کے 71 رنز کے باوجود 156 کے سکور پر اس کے پانچ کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔ لیکن کرس کرینز اور برینڈن میکولم کی عمدہ بیٹنگ کے نتیجے میں نیوزی لینڈ کو میچ جیتنے کے لیے آخری چھ گیندوں پر چھ رنز کی ضرورت تھی جو نیوزی لینڈ کی ٹیم حاصل نہ کر سکی۔ آسٹریلیا نے آکلینڈ میں اس سیریز کے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ کو ایک سو سینتالیس رنز سے ہرایا تھا۔ آسٹریلیا کے سمنڈز، مائیکل کلارک کا ساتھ دینے کے لیے کریز پر ایسے وقت آئے جب آسٹریلیا کی ٹیم مشکلات کا شکار تھی اور ایک سو ایک رنز پر اس کے چار کھلاڑی آؤٹ ہوچکے تھے۔
نیوزی لینڈ کے ملز نے شاندار بالنگ کرتے ہوئے آٹھ اوور میں چوبیس رنز دے کر آسٹریلیا کے دو اہم کھلاڑیوں رکی پونٹنگ اور ایڈم گلکرسٹ کو پولین واپس بھیج دیا۔ کرس کینز نے ایک موقع پر جیکب اورم کی گیند پر سمنڈز کا کیچ چھوڑ دیا جب ان کا سکور چودہ تھا اور بعد میں نیوزی لینڈ کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا کیونکہ سمنڈز نے ایک روزہ میچوں میں اپنے کیرئر کا سب سے زیادہ سکور کیا اور انہیں مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔ انہوں نےاپنی اننگز میں بارہ چوکے اور آٹھ چھکے لگائے جن میں کرس کینز کی بالنگ پر تین مسلسل چھکے بھی شامل ہیں۔ مائیکل کلارک کے ساتھ کھیلتے ہوئے انہوں نے پانچویں وکٹ کی شراکت میں 220 رنز بنائے جو بین الاقوامی میچوں میں آسٹریلیا کی طرف سے نیا ریکارڈ بھی بھی ہے۔ اس پارٹنرشپ میں اگر چار مزید رنز کا اضافہ ہوجاتا تو پانچویں وکٹ کے لیے یہ ایک نیا ورلڈ ریکار ہوتا۔ آسٹریلیا نے آخری چار اوور میں 65 رنز بنائے جن میں سمنڈز نے سولہ گیندوں پر 50 رنز سکور کیے۔ نیوزی لینڈ کے سامنے جیت کے لیے تین سو بائیس کا ہدف تھا اور انہوں نے بہت تیزی کے ساتھ کھیلنا شروع کیا۔ ونسٹ اور ایسٹل نے ابتدائی چودہ اوور میں 93 رنز بنائے جن میں ونسٹ کے نو چوکے اور دو چھکے بھی شامل تھے۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد نیوزی لینڈ کی مزید تین وکٹیں چند رنز کے اضافے کے بعد گر گئیں لیکن کرس کینز نے کریز پر آکر کھیل کی شکل بدل دی۔ ان کے ساتھ اورم نے بھی عمدہ بلے بازی کی اور چالیس گیندوں پر اکتالیس رنز بنائے۔ مکولم نے بہترین بیٹنگ کرتے ہوئے اس تاثر کو تقریباً یقینی بنا دیا کہ آسٹریلیا یہ میچ ہار جائے گا۔ آخری اوور کی تیسری گیند پر نیوزی لینڈ کے کھلاڑی نے سنگل بنانے کی کوشش کی لیکن وہ رن آؤٹ ہوگئے۔ آخری دو گیندوں پر نیوزی لینڈ کو تین رنز کی ضرورت تھی لیکن اس کی آخری امید ملز بھی آؤٹ ہوگئے۔ | اسی بارے میں آسٹریلیا نے آسانی سے میچ جیت لیا16 September, 2004 | کھیل آسٹریلیا کی ورلڈ پر پہلی فتح05 October, 2005 | کھیل انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو ہرا دیا 07 June, 2004 | کھیل آسٹریلیا کی ویسٹ انڈیز پر فتح06 November, 2005 | کھیل آسٹریلیا وائٹ واش کے قریب28 November, 2005 | کھیل آسٹریلوی بلے بازوں کو جرمانہ29 August, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||