آج کا کھلاڑی: کامران اکمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لوگوں کو بولنے کا موقع کہاں ملتا ہے۔ مگر آج کل لوگ دھڑا دھڑ پاکستانی کرکٹروں کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں اور اگر تنقید ہو رہی ہے تو وہ شعیب اختر پر کہ وہ انگلینڈ جیسی کمزور ٹیم کے کمزور باؤلروں کو اپنی وکٹ پکڑا گئے اور 38 سکور پر انکا اس طرح اونچی شاٹ کھیل کر آؤٹ ہونا بنتا نہیں تھا۔ یہ ہے سب کمال ایک دن کے اچھے کھیل کا۔ دوسرے ٹیسٹ کا تیسرا روز مکمل طور پر پاکستان کا رہا اور جب پاکستانی کھلاڑی اتنا اچھا کھیلیں تو حقیقی تعریف کرنے والے اور ڈینگیں مارنے والے تو کھیل کھیلتے ہی ہیں۔ اب پاکستانی شائقین کی نظر فتح پر ہے اور انکا بس نہیں چل رہا کہ وہ کسی طرح سورج کو غروب ہونے سے روک لیں۔ روشنی لاہور ٹیسٹ کا نتیجہ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ہر روز کھیل کا ایک گھنٹا کم روشنی کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے۔ یقیناً اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے خیال میں ٹیسٹ میچ میں مصنوعی روشنی کام نہیں دے سکتی جسکی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو ٹیسٹ میچ میں سرخ رنگ کی گیند استعمال ہوتی ہے جسے فلڈ لائٹ میں دیکھنا خاصا دشوار ہوتا ہے۔ دوسرے فلڈ لائٹ میں کھیل ٹیسٹ میچ کے سادہ مزاج سے متصادم ہے۔ اس مسئلہ کا ایک حل تو یہ ہے کہ پاکستان میں ٹیسٹ میچ کا دورانیہ پانچ دن سے بڑھا کر چھ دن کر دیا جائے۔ا س میں اصل سے تھوڑا سا تجاوز تو ہے لیکن کھیل فیصلہ کن ہونے کے امکانات 17 فیصد بڑھ جاتے ہیں۔ انگلستان کے باؤلرز تو بہر حال کہیں گے کہ اس تمام بحث کا حل اچھی پچوں کی فراہمی میں مضمر ہے۔ اگر وکٹ تیز اور اچھی ہو تو ہیری سن، فلنٹوف اور شعیب اختر کی موجودگی میں میچ اڑھائی نہیں تو ساڑھے تین دن میں یقیناً ختم ہو سکتا ہے۔ جمعرات کے کھیل کے بعد شائقین کو انگلستان کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اپنانا چاہیے۔ باوجود جان مارنے کے وہ صرف ایک کھلاڑی کو آؤٹ کر سکے اور اس کی سزا بیچارے انضمام الحق کو یہ ملی کہ وہ سارا دن پیڈوں اور سازوسامان سے لیس اپنی باری کا انتظار کرتے رہے۔
جمعرات کے کھیل کے ہمارے کھلاڑی کامران اکمل نے انضمام کو سارا دن پویلین میں قید کیے رکھا۔ کامران جو اس سے پہلے دورہ ہندوستان میں اپنے جوہر دکھا چکے ہیں محمد یوسف کے ساتھ پارٹنرشپ میں بہت چمکے اور آج ان کے چہرے کے مستقل تاثرات کی معقول وجہ نظر آئی۔ کامران اکمل بہت ہنس مکھ کھلاڑی ہیں اور ہمیشہ زیرِ لب کچھ پڑھتے رہتے ہیں۔ جمعرات کے کھیل کے آخری لمحات میں انہیں شائد گیند صحیح طور پر نظر نہیں آ رہی تھی مگر وہ پھر بھی مسلسل مسکرا رہے تھے۔ اگرچہ ان کے ساتھی محمد یوسف سنجیدگی سے ان کو کچھ سمجھانے کی کوشش کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ انگلستان کے باؤلروں کی اٹھتی ہوئی گیندوں سے بچتے بچاتے جمعرات کے روز کے ہمارے دونوں سینکڑہ گر چوتھے دن کے کھیل میں داخل ہو گئے ہیں۔ جمعہ کو پاکستان کو تیز رنز بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر یوسف اور انضمام کے ساتھ کامران اکمل کچھ دیر اور کریز پر ٹھہر گئے تو مزا آ جائے گا۔ |
اسی بارے میں لاہور: یوسف، اکمل کی سینچریاں01 December, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||