’ٹیم مقدم ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فاسٹ بولر شعیب اختر ملتان ٹیسٹ کے لئے پاکستانی ٹیم میں شامل کئے گئے تویہ سوال ہر ذہن میں موجود تھا کہ وہ کس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ کرینگے۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ بھارت اور ویسٹ انڈیز کے خلاف دو اہم سیریز میں پاکستانی ٹیم ان کے بغیر میدان میں اتری تھی اور جیتی تھی دوسری جانب ان کی فٹنس کے بارے میں بھی شکوک وشبہات سامنے آئے تھے لیکن ملتان میں چھ وکٹوں کی عمدہ کارکردگی کے ذریعے شعیب اختر نے اپنے بارے میں تمام خدشات دور کردیئے ہیں اور وہ آنے والے میچوں کے لئے بھی تیار ہیں۔ شعیب اختر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی اپنی انفرادی کارکردگی کو مقدم نہیں جانا بلکہ ان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ ان کی اصل پرفارمنس وہی ہے جو ٹیم کے کام آئے۔ اگر وہ چھ یا دس وکٹیں حاصل کرتے ہیں اور ٹیم نہ جتیے تو اس کارکردگی کا کوئی فائدہ نہیں لیکن ان کی وکٹیں ٹیم کی جیت کا حصہ بن جائیں تو اس سے زیادہ خوشی اور کیا ہوسکتی ہے۔ ملتان ٹیسٹ میں شعیب اختر نے دونوں اننگز میں تین تین وکٹیں حاصل کیں۔خاص کر دوسری اننگز میں انہوں نے نازک صورتحال میں جائلز جونز اور ہارمیسن کو آؤٹ کرکے پاکستان کی جیت میں مدد دی۔ شعبب اختر سے پوچھا گیا کہ بھارت اور ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز سے غیرحاضری کے بعد ٹیم میں واپس آنے کے بعد کیا کوئی اضافی پریشر تھا؟ تو وہ بولے’’ نہیں۔ جو کچھ ہوچکا وہ ماضی ہوچکا ان کی نظریں آنے والے کل پر مرکوز ہیں۔ ملتان کی وکٹ کے بارے میں سوال پر شعیب اختر کا کہنا تھا کہ وکٹ سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا انہوں نے ٹیسٹ سے قبل ملتان کی وکٹ نہیں دیکھی تھی۔ |
اسی بارے میں ملتان ٹیسٹ، پاکستان کی فتح16 November, 2005 | Debate ملتان میں جیت کر بہت خوشی ہوئی: انضمام16 November, 2005 | کھیل میرا ڈر جاتا رہا: شبیر احمد15 November, 2005 | کھیل ’طویل عرصے تک کھیلنا چاہتا ہوں‘15 November, 2005 | کھیل پاکستان کا کرکٹ کے ساتھ لگاؤ15 November, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||