آسٹریلیا اپنی پرانی روش پر آئے گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ورلڈ الیون کے کپتان شان پولاک وارم آپ میچ میں فتح حاصل کرنے کے بعد خوش ہیں جبکہ آسٹریلیا کے تیز رفتار بالر گلین میگرا کو امید ہے کہ آسٹریلیا ورلڈ الیون کے خلاف تینوں ایک روزہ میچ جیتے گی۔ میگرا کا کہنا ہے کہ ایشز سیریز میں شکست کا سامنا کرنے کے بعد آسٹریلیا ایک مرتبہ پھر جیتنے کی روش پر واپس آجائے گی اور ورلڈ الیون کے خلاف تینوں ایک روزہ اور میلبورن میں چھ روزہ ٹیسٹ جیتے گی۔ ورلڈ الیون نے وکٹوریہ کی ٹیم کو وارم آپ میچ میں بارہ رن سے شکست دی جس میں راہول ڈراوڈ کے چھیاسٹھ رن شامل تھے جبکہ شعیب اختر، ژاک کیلس اور مرلی دھرن نے دو دو کٹیں حاصل کئیں۔
ورلڈ الیون نے پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا اور ایک سو سات کے سکور پر اس کے پانچ کھلاڑی آوٹ ہو گئے اس میں برائین لارا اور کیون پیٹرسن نے بالترتیب سات اور پانچ رن بنائے اس کے بعد ڈراوڈ اور پولاک نے چوؤن رن کی شراکت کی اور اس طرح ورلڈ الیون آٹھ ووکٹوں پر دو سو اکاسی رن بنانے کی کامیاب ہو گئی۔ وکٹوریہ کی طرف سے بریڈ ہوگ نے شاندار اننگز کھیلی اور اپنی ٹیم کو میچ جیتنے کے قریب پہنچا دیا۔ وہ بانوے کے انفرادی سکور پر آؤٹ ہو ئے۔ وکٹوریہ کی پوری ٹیم اس کے بعد دو سو انہتر کے سکور پر آؤٹ ہو گئی۔ میگرا نے کہا کہ ان کی ٹیم کو دو تین میچوں میں جیتنے کی ضرورت ہے اور اس کے بعد وہ اپنی پرانی روش پر واپس آجائے گی۔ میگرا انگلینڈ کے خلاف آخری میچ میں کہنی میں تکلیف کے باوجود کھیلے تھے۔ انہیں امید ہے کہ بدھ کو دن اور رات کے میچ کے لیے، جو ٹلیسٹرا ڈوم میں چھت کے نیچے کھیلا جائے گا، وہ پوری طرح فٹ ہو جائیں گے۔ میگرا کو اب تک ائجبسٹن میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ سے پہلے اس واقعے پر افسوس ہے جس میں ان کا پیر ایک گیند پر پڑنے سے ان کی ایڑھی میں چوٹ آ گئی تھی۔ ’کاش وہ ایک سیکنڈ دوبارہ آجائے اورمجھے اپنا پیر تین انچ ادھر یا تین انچ اُدھر رکھنے کا موقع مل جائے‘ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ انگلینڈ نے بہترین کھیل پیش کیا اور انیس سوستاسی کے بعد ایشز جیتنے میں کامیابی ہو گیا۔ میگرا نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں میں آسٹریلیا کو پہلی مرتبہ چیلنج کا مقابلہ کرنا پڑا اور انگلینڈ کے پاس کئی بہتریں کھلاڑی موجود تھے۔ انہوں نے کہا گزشتہ دس سالوں میں آسٹریلیا کے جیتنے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کا مقابلہ کمزور ٹیموں سے تھا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنے مدمقابل ٹیم کو اپنی بھرپور کارکردگی پیش کرنے کا موقع نہیں دیا اور انگلینڈ نے بھی گزشتہ ایشز سیریز میں آسٹریلیا کے خلاف یہی حکمت عملی اپنائی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||