BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 31 July, 2005, 17:26 GMT 22:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہتری مزید 15 فیصدچاہیے: وولمر

کوچ باب وولمر
پاکستان ٹیم کے غیر ملکی کوچ باب وولمر نے کہا ہے کا پاکستانی ٹیم کو ٹیسٹ میچوں میں اپنی کارکردگی پانچ فیصد بہتر کرنی ہے۔ ایک روزہ کرکٹ کے لیے میں دس فیصد بہتری چاھتا ہوں جبکہ عمومی لحاظ سے پندرہ فیصد ترقی کرنا ہو گی۔

باب وولمر کے مطابق یہ اندازہ انہوں نے سیریز میں کامیابی کے بعد لگایا ہے اور اس بات سے بھی لگایا ہے کہ پاکستانی ٹیم نے ایک روزہ میچ اس طرح کھیلے ہیں کہ انہیں ہرانا اب دشوار محسوس ہوتا ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمرنےسنہ 2007 کے ورلڈ کی تیاری کے لیے ایک جامع پروگرام بھی تشکیل دیا ہے۔

باب وولمر پاکستان ٹیم کے ویسٹ انڈیز کے دورے کے بعد جنوبی افریقہ چلے گئے تھے۔

باب وولمر نے کہا کہ انہوں نے اس دوران پاکستان کی ٹیم کی تربیت کے لیے ایک مکمل پروگرام بنایا ہے۔
باب وولمر کے مطابق سنہ 2007 کے عالمی کپ کرکٹ سے پہلے پاکستانی کھلاڑيوں نے بہت زیادہ کرکٹ کھیلنی ہے جس میں ان کی فٹ نس بھی متاثر ہو سکتی ہے اور انہیں چوٹیں بھی لگ سکتی ہیں۔

عالمی کپ تک ان اٹھارہ ماہ میں انہیں کیسے فٹ رکھنا ہے کیسے ان چوٹوں سے بچانا ہے اس پر میں نے کافی کام کیا ہے۔

باب وولمر نے کہا کہ یکم اگست کو وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین شہر یار خان، ڈائریکٹر سلیم الطاف اور کپتان انضمام الحق کے ساتھ ایک مشترکہ میٹنگ کر رہے ہیں جس میں اس پروگرام پر تفصیلی بات چیت ہو گی اور ایک جامع لا‏ئحۂ عمل بنایا جائے گا۔

باب وولمر نے کہا کہ ایک روزہ میچز میں بھی غیر جانبدار ایمپائر کا خیال اچھا ہے اور مجھے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔

شبیر احمد کے مشکوک بالنگ ایکشن پر باب وولمر کا خیال ہے کا اس کے بالنگ ایکشن واقعی درست نہیں اور اس کا پاک انگلینڈ سیریز میں شرکت کا امکان بہت کم ہے کیونکہ باب وولمر کے مطابق اسے درست ہونے میں اٹھارہ ماہ تک لگ سکتے ہیں البتہ یہ شبیر پر ہے کہ وہ کتنی محنت کرتا ہے اور کتنی جلد اپنی اس بری عادت سے چھٹکارہ حاصل کر سکتا ہے۔

ویسٹ انڈیز کے دورے سے قبل فاسٹ بالر شعیب اختر اور ان کے تعلقات مین کشیدگی کے بارے میں اخباروں میں چھپنے والی خبروں کی بابت باب وولمر کا کہنا ہے کا میں بحثیت ایک عام انسان کے شعیب کو پسند کرتا ہوں لیکن جس طرح وہ کرکٹ کو لیتا ہے اور جسطرح وہ اپنی فٹ نس کا خیال رکھتا ہے اس پر ہم دونوں میں اختلافات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بھارت اور ویسٹ انڈیز اس لیے نہیں لے جایا گیا کیونکہ وہ فٹ نہیں تھے۔بھارت جانے سے پہلے وہ زخمی تھے لیکن ویسٹ انڈیز جانے سے پہلے وہ ٹھیک ہو گئے تھے لیکن اتنے فٹ نہیں تھے کہ اتنی دیر تک بالنگ کرواکیں جتنی کہ ضرورت ہو۔

انہوں نے کہا کہ وہ شعیب اختر کی کاؤنٹی کرکٹ میں کارکردگی اور ان کی فٹ نس پر گہری نظر رکھتے ہیں اور وہاں بھی ان کی پرفارمنس سے وہ مکمل طور پر مطمئن نہیں۔

باب وولمر کے مطابق وہ شعیب اختر کو کھلانا چاہتے ہیں لیکن اسے خاص طورپر ٹیسٹ کرکٹ کے لیے خود کو مکمل فٹ کرنا ہو گا۔

پاک انگلینڈ سیریز کے نتائج کی بارے ان کا کہنا تھا کہ ابھی اس میں تین ماہ کا وقت ہے اور اس دوران کھلاڑیوں کی جسمانی فٹ نس کیسی رہتی ہے کچھ معلوم نہیں لہذا ابھی کوئی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد