BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 November, 2004, 13:27 GMT 18:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شکست کا خوف نہیں : باب وولمر

باب وولمر
آسٹریلیا میں ٹیم کی شکست کی پشنگوئیوں سے پریشان نہیں ہوں۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر اس عام رائے سے قطعا پریشان نہیں ہیں کہ آسٹریلیا میں پاکستانی ٹیم کو میزبانوں کے جارحانہ سلوک کا سامنا کرنا پڑے گا اور پچھلی دو سیریز کی طرح ایک اور وائٹ واش اس کی منتظر ہے۔

پاکستانی ٹیم کو 1999ء اور 2002ء دونوں سیریز میں تین صفر کی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا تھا۔

باب وولمر نے آسٹریلیا روانگی سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اندازہ ہے کہ لوگ زیادہ توقعات وابستہ نہیں کئے ہوئے ہیں لیکن وہ اس سوچ کے ساتھ دورے پر نہیں جارہے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا وہ بھی تین صفر کے ساتھ ، یا یہ کہ جو کچھ دوسروں کے ساتھ ہوا ہے وہ پاکستانی ٹیم کے ساتھ بھی ہو گا۔

پاکستانی ٹیم کے کوچ نے کہا کہ مثبت سوچ کے ساتھ جارہے ہیں ہارجیت کھیل کا حصہ ہے ۔

آسٹریلوی کی ٹیم کے لیے ان کا ملک قلعہ ہے۔اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آخری ٹیم کونسی تھی جس نے آسٹریلیا کو اسی کے دیس میں شکست دی۔

باب وولمر کہتے ہیں کہ وہ اور ان کے کھلاڑی اچھی کارکردگی کے لیے پرعزم ہیں لیکن اس کے لیے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کو مظاہرہ کرنا ہوگا۔

پاکستانی ٹیم کے کوچ اس تاثر کی نفی کرتے ہیں کہ پاکستانی بیٹنگ لائن کے ابتدائی پانچ کھلاڑی قابل اعتماد نہیں ہیں ۔

وہ عمران فرحت، یاسرحمید، سلمان بٹ کی صلاحیتوں کے معترف ہیں یونس خان کو وہ ون ڈاؤن پوزیشن کے لیے موزوں خیال کرتے ہیں ،انضمام الحق ان کے نزدیک ورلڈ کلاس بیٹسمین ہیں، یوسف یوحنا نے اس سال غیرمعمولی کارکردگی نہیں دکھائی لیکن اس کا مطلب نہیں کہ وہ اچھا بیٹسمین نہیں ہے۔ پاکستانی ٹیم کے کوچ کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں ٹیسٹ میچ میں اچھی کارکردگی کے لیے بیٹسمینوں کو طویل بیٹنگ کے لئے تیار رہنا ہوگا۔

باب وولمر کا کہنا ہے کہ محمد سمیع نے فیصل آباد ٹیسٹ میں اچھی بولنگ کی بدقسمتی سے وہ اس کے بعد ان فٹ ہوگئے جس کی وجہ سے کلکتہ میں انہوں نے اچھی بولنگ نہیں کی لیکن وہ انہیں صرف اسی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

دورے میں صرف ایک وکٹ کیپر کو موقع دینے کے بارے میں باب وولمر کہتے ہیں کہ کامران اکمل کو اعتماد دیا گیا ہے یہ مستقبل کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

اوپنر توفیق عمر کو ٹیم میں شامل نہ کئے جانے پر وولمر کا کہنا ہے کہ یہ حرف آخر نہیں۔ توفیق عمر، مصباح الحق، اور بازید خان ٹیم میں جگہ نہیں بناسکے لیکن آنے والے دنوں میں وہ ٹیم میں شامل ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی دورے میں کسی کھلاڑی کے ان فٹ ہونے کی صورت میں ان ہی میں سے کسی کو موقع مل سکتا ہے لہذا انہیں ہمت نہیں ہارنی چاہیئے۔

نئے فاسٹ بولرز محمد آصف اور محمد خلیل کے بارے میں باب وولمر کہتے ہیں کہ وہ باصلاحیت ہیں لیکن انہیں خود کو منوانے میں وقت لگے گا۔’یہ جادو کی چھڑی نہیں کہ آناً فاناً سب کچھ حاصل ہوجائے‘۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد