پاکستان جمیکا ٹیسٹ جیت گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان جمیئکا کے شہر کنگسٹن کے سبیئنا پارک گراؤنڈ میں ہونے والا دوسرا ٹیسٹ میچ پاکستان نے 136 رنز سے جیت لیا ہے اور اس طرح دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر ہو گئی ہے۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان کی دوسری اننگز کے 309 کے سکور کے جواب میں میچ کے پانچویں روز لنچ کے وقفے سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے 143 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ میچ شروع ہونے کے کچھ دیر بعد دانش کنیریا نے پاول کوآؤٹ کر کے اس اننگز میں اپنی پانچ اور میچ میں اپنی چھ وکٹیں مکمل کیں اور اس کے بعد شبیر نے ٹینو بیسٹ اور ریون کنگ کو آؤٹ کر کے پاکستان کو جتوایا اور سیریز برابر کر دی۔ دیکھا جائے تو یہ بھی دورہ بھارت کو ایک طرح سے دوہرانا ہی ہے۔ یعنی ون ڈے میچوں کی سیریز جیت کر ٹیسٹ میچوں کی سیریز برابر کرنا۔ اس میچ میں اگرچہ رانا نوید کے زخمی ہونے کی وجہ سے پاکستان کا بولنگ اٹیک کافی کمزور تھا۔اور دانش کنیریا کو پہلی اننگز میں وکٹ پر آنے کی وجہ سے گیند کرنے سے روک دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجو دانش نے نہایت شاندار بولنگ کی اور لارا سمیت ویسٹ انڈیز کے اہم کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ان کی شاندار کارکاردگی پر ان کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔ میچ کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گو وہ پہلی اننگز میں اتنی اچھی گیند نہیں کر رہے تھے لیکن کپتان اور کوچ نے ان پر بھروسہ کیا اور انہیں بھی اپنے آپ پر پورا اعتماد تھا کہ وہ کھیل میں واپس آئیں گے اور آؤٹ کریں گے۔ لارا کو آؤٹ کرنے کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’میں پاکستان میں سے ہی یہ سوچ کر آیا تھا کہ میں لارا کا وکٹ لوں گا کیونکہ لارا میرے پسندیدہ بیٹسمینوں میں سے ہیں۔ اور میری کوشش تھی کہ میں ان کی وکٹ حاصل کروں‘۔ پاکستان کے کپتان انضمام الحق کو جنہیں سابق کپتان عمران خان دنیا کا واحد میچ وننگ بیٹسمین کہتے ہیں اگرچہ دو چانس ملے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنی زندگی کی ایک شاندار اننگز بھی کھیلی اور دوسری اننگز میں 117 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ پہلی اننگز میں بھی انہوں نے 50 رنز بنائے تھے۔ میچ کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دانش کنیریا کی بولنگ کا جیت میں اہم کردار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باربیڈوس کے میچ کے بعد لڑکے بڑے ’ فوکسڈ‘ تھے۔ خاص کر یونس، دانش اور شبیر نے بہت اچھا کھیل کھیلا۔ دوسری اننگز میں بنیادی فرق صرف دانش ہیں۔ ویسٹ انڈیز کے بیٹسمین برائن لارا کو دو ٹیسٹ میچوں میں دو سنچریاں بنانے پر مین آف دی سیریز قرار دیا گیا۔ پاکستان نے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز تو برابر کر لی ہے لیکن ویسٹ انڈیز کے تماشائی کورٹنی براؤن کے ہاتھوں انضمام کا کیچ ڈراپ ہونا نہیں بھول رہے اور انہیں معاف کرنے کے روادار نہیں ہیں۔ دوسری طرف میڈیا میں بھی ایمپائیر شیفرڈ کے چندرپال کو ایل بی ڈبلیو قرار دینے پر کافی تنقید کی گئی ہے۔ پاکستان کی ٹیم: انضمام الحق (کپتان)، یاسر حمید، شعیب ملک، شاہد آفریدی، یونس خان، عاصم کمال، عبدالرزاق، کامران اکمل، نوید الحسن رانا، شبیر احمد، اور دانش کنیریا۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم: کرسٹوفر گیل، ڈیون سمتھ، رام ناریش ساروان، برائن لارا، شیو نارائن چندرپال، ویول ہائنڈز، کورٹنی براؤن، ڈیرن پاول، ٹینو بیسٹ، ریون کنگ، کوری کولیمور شامل ہیں۔ جبکہ آئین بریڈ شا اور ڈوین براوو بارہویں اور تیرہوں کھلاڑی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||