لندن سے دبئی منتقل ہونے کا فائدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی سی سی کے دفاتر لندن سے دبئی منتقل ہونے سے ہر ٹیسٹ کھیلنے والے ملک کو اضافی اسی ہزار پونڈ سالانہ ملیں گے۔ آئی سی سی کا دفتر 1909 سے لندن میں ہیں۔ چھیانوے برس بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اپنے دفاتر برطانیہ سے دبئی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئی سی سی کے صدر احسان مانی نے کہا کہ دفاتر کو منتقل کرنے سے ہر ٹسیٹ کھیلنے والے ملک کو 80,000 پونڈ اضافی ملیں گے۔ آئی سی سی کے صدر احسان نے کہا ہے آئی سی سی کےانتظامی امور کو یکجا کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ اس منتقلی سے آئی سی سی کو ٹیکسوں کی مد میں بھی خاصی بچت ہوگی جو کہ برطانیہ میں ممکن نہیں تھی۔ حالیہ برسوں میں لارڈز آئی سی سی کا انتظامی ہیڈکوارٹر رہا ہے جبکہ کرکٹ کونسل کے مالیاتی اور کمرشل معاملات مناکو سے نمٹائے جاتے رہے ہیں۔ احسان مانی کا کہنا تھا کہ تمام شعبہ جات کے ایک جگہ ا کٹھے ہونے سے کرکٹ کونسل کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||