سپرسیریز پر آئی سی سی اجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا بھر کے کرکٹ بورڈوں کےسربراہان اگلے ماہ اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آسٹریلیا اور ریسٹ آف ورلڈ ٹیموں کے مابین ہونے والے سپر سیریز میچوں کو باقاعدہ درجہ دیا جائے یا نہیں؟ اس سے قبل اکتوبر میں ہونے والے تین ایک روزہ میچوں کو آئی سی سی نے ریکارڈ میں شامل نہیں کیا تھا لیکن اس کے بعد سونامی امداد کے سلسلے میں منعقدہ میچ کے اعداد و شمار باقاعدہ ریکارڈ میں شامل کر لیے گئے تھے۔ یہ میچ ورلڈ الیون اور ایشیا الیون کے مابین کھیلا گیا تھا۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو میلکم سپیڈ کے بقول اس بات کا بہت امکان ہے کہ اس سیریز کو باقاعدہ درجہ دے دیا جائےگا۔ ریسٹ آف ورلڈ الیون برطانیہ اور آسٹریلیا میں پانچ ایک روزہ میچ کھیل چکی ہے لیکن ابھی تک اس نے کوئی ٹیسٹ نہیں کھیلا ہے۔ لندن میں آئی سی سی کی چیف ایگزیکٹو کمیٹی کے ایک اجلاس میں کرکٹ کے ڈھانچے میں تبدیلی کی بات بھی زیِرغور آئی ہے جس کا مقصد بولروں کے غیر قانونی انداز کے معاملے سے نمٹنا ہے۔اس معاملے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور جمعہ کو اس پر مزید بات ہوگی۔ چیف ایگزیکٹو کمیٹی اپنے اگلے اجلاس میں ڈک ورتھ لوئیس نظام کے متبادل نظام کے بارے میں بھی بات کرے گی۔یہ نظام بارش کی صورت میں میچ کو فیصلہ کن بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ زیرِغور معاملات میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ بھی شامل ہے جو کہ مقامی سطح پر مقبولیت کے باوجود بین الا قوامی سطح پر زیادہ نہیں جانی جاتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||