بولنگ ایکشن کے نئے قواعد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) تمام کھلاڑیوں کو بولنگ کرتے وقت بازو موڑنے کی اجازت دینے کی خاطر کھیل کے قواعد میں تاریخی تبدیلی کرنے پر غور رہی ہے۔ بایئو مکینِکس کے ماہرین کی تفصیلی تحقیقات کے بعد اب یہ کہا جا رہا ہے کہ ایک باؤلر کو اپنا بازو پندرہ ڈگری تک موڑنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اس وقت یہ اجازت فاسٹ باؤلرز کے لئے صرف دس اور سپنرز کے لئے پانچ ڈگری تک محدود تھی۔ تاہم اس تبدیلی کو آئی سی سی کی ایگزیکٹیو کونسل کی طرف سے نومبر میں تسلیم کیا جانا باقی ہے۔ تاہم اس تجویز پر انگلینڈ کے سابق بیٹسمین جیف بائیکاٹ نے یہ کہہ کر تنقید کی ہے کہ آئی سی سی مرلی دھرن کو فائدہ پہچانے کے لئے ایسا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ اقدام سری لنکا اور مرلی دھرن کے حامیوں کے دباؤ میں آکر کیا جا رہا ہے۔‘ اگر یہ تبدیلی عمل میں لائی جاتی ہے تو مرلی دھرن کو اپنا ’دوسرا‘ گیند پھینکے کی قانونی اجازت ہوگی۔ رپورٹ میں دکھایا گیا تھا کہ مرلی اپنے بولنگ آرم کو چودہ ڈگری تک موڑتے ہیں، جسے تربیت کے بعد دس ڈگری تک ’بہتر‘ بنایا گیا۔ موجودہ قواعد کی زد میں آنے والوں میں پاکستانی آل راؤنڈر شعیب ملِک بھی شامل ہیں۔ شعیب کے ایکشن کے خلاف گزشتہ ماہ پاکستان میں ہونے والے سہ فریقی ٹورنامنٹ کے بعد امپائرز سائمن ٹوفل اور علیم ڈار نے آئی سی سی کو رپورٹ بھیجی تھی۔ برطانوی اخبار ’ڈیلی ٹیلی گراف‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق آئی سی سی کی تحقیقات میں پایاگیا ہے کہ کرکٹ کی تاریخ میں ننانوے فیصد باؤلرز کا ایکشن قانونی نہیں رہا ہے۔
کرکٹ کے قواعد میں اس تاریخی تبدیلی کی تجویز حال ہی میں دبئی میں آئی سی سی کی بولنگ ایکشن کی سب۔کمیٹی کی ایک میٹنگ کے بعد منظر عام پر آئی ہے۔ اس پینل میں ویسٹ نڈیز کے سابق فاسٹ بولر مائکل ہولڈنگ، انگلینڈ کے سابق کپتان ٹونی لیوِس، سابق سیم بولر اینگس فریزر اور سابق آسٹریلوی آف سپِنر ٹِم مے شامل ہیں۔ کرکٹ کے منتظمین کے لئے ’چکنگ‘ اس وقت سے ایک پریشان کن معاملہ رہا ہے جب انیس سو تریسٹھ۔ چونسٹھ میں جنوبی افریقے کے خلاف سیریز کے دوران آسٹریلوی بولر ایئن میکِف کو ایک ہی اوور میں چار مرتبہ متنبہ کیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||