انضمام کا ملتان میں شاندار استقبال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کامیاب دورہ بھارت کے بعد جمعرات کے روز جب اپنے آبائی شہر ملتان آئے تو پرستاروں اور عوام نے ان کا فقیدالمثال استقبال کیا۔ انضمام الحق ملتان میں پیدا ہوئے اور انہوں نے کرکٹ کھیلنے کا آغاز بھی اسی شہر کے گلی کوچوں اور میدانوں سے کیا۔ لیکن پچھلے کچھ برسوں سے وہ اور ان کا خاندان لاہور منتقل ہو چکے ہیں۔ اپنی مرحومہ والدہ کے مرقد پر فاتح خوانی کے لیے چند روز قبل انضمام خاموشی سے ملتان آئے تھے لیکن ان کے چاہنے والوں کی خواہش تھی کہ وہ دوبارہ بتلا کر آئیں تاکہ روایتی حریف بھارتی کرکٹ ٹیم کے خلاف ان کے دیس میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر ملتان میں ان کا شایان شان استقبال کیا جائے۔ ملتان کی ضلعی حکومت نے اس موقع پر ان کی تاجپوشی کرنے کا اعلان بھی کیا ہوا تھا۔ انضمام کے استقبال کے انتظامات ضلع حکومت اور مقامی کرکٹ ایسوسی ایشن نے مل کر کیے تھے۔
انضمام جب لاہور سے بذریعہ جہاز ملتان پہنچے تو ایئر پورٹ پر استقبال کرنے والوں کی تعداد توقع سے خاصی کم تھی لیکن جیسے جیسے ان کا استقبالی جلوس شہر کے مختلف بازاروں سے گزرا تو لوگ بھاری تعداد میں ہمراہ ہوتے گۓ۔ مختلف مقامات پر ان کی دستار بندی کی گئی جبکہ بازاروں سے گزرتے ہوِئے جلوس پر تاجروں نے گل پاشی کی اور انضمام کو پھولوں کے ہار پہنائے۔ جلوس کینٹ، ایس پی چوک، نواں شہر اور کلمہ چوک سے ہوتا ہوا ملتان آرٹس کونسل پہنچا جہاں انضمام کی تاجپوشی کی گئی۔ تاجپوشی کی تقریب سے فارغ ہوکر قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان ملتان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی طرف سے دیۓ جانے والے استقبالیہ میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ آرٹس کونسل اور چیمبر آف کامرس کی تقریبات میں اپنے خطاب میں کم گو انضمام نے زیادہ زور دین کی پیروی اور آخرت کی فکر کرنے پر دیا۔ آخر میں وہ ملتان پریس کلب کے پروگرام گفتگو میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب دینے کے لیے تشریف لائے تو سوالات کا محور رہا زیادہ تر شعیب اختر سے ان کے مبینہ اختلافات اور دورہ ویسٹ انڈیز کے لیے چنی جانے والی ٹیم سے راولپنڈی ایکسپریس کا اخراج۔
انضمام کا کہنا تھا کہ ٹیم میں شعیب کی جگہ نہ بننے کے حوالے سے سوالات کا جواب سلیکشن کمیٹی ہی زیادہ بہتر طور پر دے سکتی ہے۔ تاہم ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کھلاڑی کی فٹنس کے ساتھ ساتھ اس کا رویہ بھی فٹ ہونا چاہیے۔ ان سے جب کہا گیا کہ وہ میدان میں سابقہ کپتانوں کی نسبت بدلتی ہوئی صورتحال پر زیادہ ردعمل کا اظہار کرتے نظر نہیں آتے جس سے ان کے سست ہونے کا تاثر ابھرتا ہے تو انضمام کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ کپتان گالیاں دیتا ہو اور ہوا میں ہاتھ مارتا ہوا نظر آئے تو ہی چست کہلائے گا۔ انضمام کا کہنا تھا کہ فیلڈنگ پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم کا سب سے کمزور شعبہ ہے اور دورہ ویسٹ انڈیز میں اس پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ویسٹ انڈیز میں آجکل جیسی وکٹیں بن رہی ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کے وہاں سپنرز زیادہ کارگر ثابت ہونگے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک روزہ کرکٹ میں اب تین سو رنز بنانا بھی محفوظ نہیں رہا جبکہ پہلے دو سے ڈھائی سو رنز بنا لینا بہت سمجھا جاتا تھا۔انضمام نے ٹیم ورک پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا کی ٹیم اسی وجہ سے مسلسل کامیابیاں سمیٹ رہی ہے کیونکہ اس کے تمام کھلاڑی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ انہوں کہا کہ حالیہ دورہ بھارت میں پاکستانی ٹیم نے جن ٹیسٹ اور ون ڈے میچوں میں کامیابی حاصل کی ان میں ٹیم کی مجموعی کارکردگی شاندار تھی نہ کہ کسی ایک کھلاڑی کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||