فاتح پاکستانی ٹیم کی وطن واپسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک روزہ سیریز میں بھارت کو شکست دینے والی پاکستانی ٹیم جب پیر کے روز وطن واپس پہنچی تو اس کا استقبال ایسا نہ تھا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی جن میں شاہد آفریدی بھی شامل ہیں کراچی ائر پورٹ پر اترے جبکہ ٹیم کے زیادہ کھلاڑی، کپتان انضمام الحق اور ٹیم آفشلز لاہور کے بین الاقوامی ائیرپورٹ پر اترے۔ ائیر پورٹ پر استقبال کرنے کے لیے محض چند لوگ ہی آئے تھے جبکہ توقع کی جا رہی تھی کہ بھارت کی سر زمین پر بھارت کو شکست دینے والی یہ پاکستانی ٹیم کہ جسے کمزور تصور کیا جا رہا تھا وطن لوٹے گی تو اس کا شاندار اور یادگار استقبال ہو گا۔ تاہم نہ تو استقبال کے لیے کرکٹ کے ہزاروں شائقین تھے اور نہ کوئی ڈھول تاشے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اہلکار گلاب کے ہاروں کے ساتھ آئے تھے۔ انہیں امید تھی کہ شائقین کرکٹ ٹیم کے استقبال کے لیے خود ہی پہنچ جائیں گے۔ لیکن ان کا اندازہ غلط ثابت ہوا۔ عام لوگ تو زیادہ نہ تھے تاہم ذرائع ابلاغ کے نمائندے اور پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ گو کہ لوگ بہت زیادہ تعداد میں تو نہ تھے تاہم جتنے بھی تھے وہ کھلاڑیوں کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بہت زیادہ بے چین تھے۔ ان درجنوں استقبالیوں نے اتنی بھگدڑ مچائی کہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بڑی تگ و دو کے بعد کسی کھلاڑی سے بات کرنے کا موقع ملا۔ ایک روزہ سیریز میں مین آف دی سیریز قرار پانے والے رانا نوید الحسن اس اعزاز پر خوش تھے ان کا کہنا تھا کہ سیریز سے پہلے انہیں یہ اندازہ نہ تھا کہ وہ یہ اعزاز حاصل کر سکیں گے لیکن ان کا عزم تھا کہ وہ اپنی ٹیم کے لیے اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔ رانا نوید الحسن اپنے جذبات کا اظہار کر رہے تھے کہ ایک شخص نے انہیں کاندھوں پر اٹھا لیا اور ارد گرد کھڑے لوگ رانا رانا رانا کے نعرے لگانے لگے۔ انضمام الحق کے باہر آتے ہی لوگ دیوانہ وار ان کی طرف بھاگے جس پر انضمام کافی گھبرا گئے اور بڑی مشکل سے بس یہی کہہ پائے کہ اس جیت کا سہرا تمام ٹیم کے سرہے اور یہ ٹیم سپرٹ کے سبب ممکن ہو سکا اور یہ کہ وہ جیت کر وطن واپس آنے پر بہت خوش ہیں۔ اگر کوئی شخص لوگوں کی کھینچا تانی سے محفوظ رہا تہ وہ کوچ باب وولمر تھے۔ انہوں نے بڑے آرام سے صحافیوں سے بات چیت کی اور کہا کہ وہ جیتی ہوئی ٹیم کے ساتھ واپس آ کر بہت خوش ہیں۔ لوگ کھلاڑیوں کو بہت مبارکباد دے رہے ہیں اور یہ کھلاڑی اس مبارک باد کے حقدار بھی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||