آفریدی، شائقین کے دل کی دھڑکن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
رن بنانے کے اس سنہری دور میں جب بلا آقا اور گیند غلام نظر آتی ہے دنیا بھر کے بہت سے بلے باز اس بات کے دعویدار ہیں کہ ان سے زیادہ تیز رفتاری سے رن بنانے والے اور کوئی نہیں۔ تیز رفتاری سے رن بنانے کی جب بات آتی ہے تو دماغ میں انگلینڈ کے چھکے لگانے کے لیے مشہور کھلاڑی اینڈریو فلنٹوف، سری لنکا کے سنتھ جے سوریا، بھارت کے وریندر سہواگ اور آسٹریلیا کے ایڈم گلکرسٹ کی طرف چلا جاتا ہے۔ لیکن اعدادو شمار پر جب نظر ڈالی جائے تو ایک بلے باز ان سب بلے بازوں پر حاوی نظر آتا ہے اور وہ ہیں پاکستان کے شاہد آفریدی۔ کانپور کے ایک روزہ میچ میں جس طرح شاہد آفریدی نے بھارتی گیند بازوں کی دھنائی کی اور صرف پینتالیس گیندوں میں اپنی سنچری بنائی وہ بہت سے بلے بازوں کی زندگی کی بہترین اننگز ہو سکتی ہے۔ لیکن آفریدی کے لیے یہ ان کی زندگی کی بہترین اننگز نہیں تھی۔ وہ اس سے پہلے صرف 37 گیندوں پر نیروبی میں سری لنکا کے خلاف سن انیس سو چھیانوے میں سنچری سکور کر چکے ہیں۔ پاکستان کے دائیں بازو سے کھیلنے والے بلے باز لگتا ہے صرف گیند کو ہٹ لگانے اور بہت زورسے ہٹ لگانا جانتے ہیں چاہے ان کے خلاف کوئی بھی ٹیم کھیل رہی ہو۔ نیروبی میں جب شاہد آفریدی نے 37 گیندوں پر سنچری سکور کی تھی اس دن سری لنکا کے مایہ ناز سپنر مرلی دھرن نے 73 دن دیے تھے اور جے سوریا کو 94 سکور پڑے تھے۔ ایک روزہ میچوں کی تاریخ میں کسی اور بلے باز نے اتنے زیادہ چھکے نہیں لگائے ہیں۔ کانپور میں افریدی نے بھارت کے خلاف نو چھکے لگائے اور وہ یوں جے سوریا سے انیس زیادہ چھکے لگانے والے بلے باز بن گئے۔ انہوں نے اوسطاً اپنی ہر اننگ میں ایک عشاریہ صفر چار چھکے لگائے ہیں جب کے فلنٹوف نے اوسطً اپنی ہر اننگ میں ایک چھکا لگایا ہے۔ مخالف ٹیم کی صفوں میں سراسیمگی پھیلانے کی شاہد آفریدی کی یہ صلاحیت انہیں دنیا کے عظیم بلے بازوں میں شامل نہیں کرتی۔ تکنیکی اعتبار سے بھی شاہد آفریدی کا پاکستان کے عظیم بلے بازوں سے کوئی موزانہ نہیں کیا جا سکتا۔ آفریدی کو لوگ ان کی رن بنانے کی رفتار اور زور دار ہٹ لگانے کی صلاحیت کی وجہ سے پسند کرتے ہیں۔ بلاشبہ آفریدی ٹیسٹ کرکٹ کے لیے ضرورت سے زیادہ تیز ہیں لیکن ایک روزہ میچوں میں بھی وہ ہمیشہ آؤٹ ہونے سے صرف ایک گیند دور رہتے ہیں۔ کانپور میں انہوں نے ایک زبردست شاٹ لگا کر اپنی سنچری بنائی لیکن اگلی ہی گیند پر وہ ایک دفاعی شاٹ کھیلتے ہوئے آؤٹ ہو گئے۔ آفریدی کے بارے میں کبھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان نے ایک ایسے کھلاڑی کو جس کی رن بنانے کی اوسط صرف چوبیس ہے اور اپنی زندگی میں ساٹھ سے زیادہ مرتبہ دس سے زیادہ سکور کرنے میں ناکام رہا ہے دو سو میچ کھلائے۔ پاکستان آفریدی کو اس لیے کھلاتا رہا کیونکہ وہ ایک اپنی طرح کے واحد کھلاڑی اور حیقیقتاً میچ جیتنے والے ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کی حیران صلاحیت کبھی کبھار ہی میچ جیتنے کا باعث بنتی ہے لیکن کرکٹ کے شائقین انہیں ایک ہیرو کے طور پر پسند کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||