BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 April, 2005, 14:47 GMT 19:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیٹنگ کے ساتھ اب حسِ مزاح بھی

انضمام الحق
’ کیچ چھوڑے گئے؟ مجھے کسی نے کیوں نہیں بتایا!‘
انضمام الحق اور یونس خان کی بیٹنگ کی تعریف تو ہم نےبہت سنی ہے، لیکن اس دورے پر ان کی حسِ مزاح کی بھی خوب داد دی جا رہی ہے۔

کوئی ان کے ’سینس آف ہیومر‘ کی تعریف کرتا ہےتو کوئی ان کی کپتانی کی حالانکہ صرف چند ہفتے قبل آسٹریلیا کے دورے پر جب ٹیم ناکامیوں سے دوچار تھی، تو سب سے زیادہ نشانہ انضمام کو ہی بنایا جا رہا تھا۔

پریس کانفرنس میں سب انہیں انضی بھائی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں اور انضی بھائی بھی اپنے ڈائیلاگ مارنے سے نہیں چوکتے۔

مثال کے طور پر پہلے ٹیسٹ میچ میں جب پاکستانی فیلڈرز نے کیچ نہ پکڑنے کی قسم سی کھا رکھی تھی، تو سابق ہندوستانی بیٹسمین سنجے منجریکر نےایک انٹرویو میں ان سے پوچھا کہ آج کئی کیچ چھوڑے گئے، اس کا میچ پر کیا اثر ہوگا؟

ٹاس کا ذکر نہیں۔۔۔۔
 ’بھائی اللہ کے واسطے ٹاس کا ذکر مت کیجیے، ٹاس اگلے میچ میں بھی ہونا ہے‘
انضمام الحق

انضمام کا جواب تھا کہ’ کیچ چھوڑے گئے؟ مجھے کسی نے کیوں نہیں بتایا!‘

ایک روزہ میچوں کی سیریز میں جب انضمام نے پہلی مرتبہ جمشید پور میں ٹاس جیتا، تو میچ کے بعد کسی نے کہا کہ مبارک ہو آخر آپ نے ٹاس جیت ہی لیا!۔ انضمام بولے ’بھائی اللہ کے واسطے ٹاس کا ذکر مت کیجیے، ٹاس اگلے میچ میں بھی ہونا ہے‘۔ اور اگلےمیچ میں وہ پھر ٹاس ہار گئے۔

دو میچوں میں یونس خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرنے کی ذمہ داری نبھائی۔ انگریزی کے معاملے میں یونس کا دامن تھوڑا تنگ ہے لیکن وہ سوال کا جواب دینے سے نہیں جھجھکتے۔

پہلے دومیچوں میں وہ وائرل بخار کی وجہ سے نہیں کھیل پائے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ہندوستان کی ’ہوسپٹیلٹی‘ یعنی میزبانی انہیں کیسی لگی، تو ان کا جواب تھا کہ ’یار میں نے پرسوں پورا دن ہاسپٹل میں گزارا، بہت مزا آیا، بہت خیال رکھا انہوں نے میرا‘۔

اور جب ان سے کسی نے پوچھا کہ کیا شبیر احمد اور شعیب کو ٹیم میں شامل کیا جاسکتا ہے، تو انہوں نے کہا’ یار ماشااللہ آپ کافی سمجھدار اور سینئر آدمی لگ رہے ہیں، تو اتنا ’سلی‘ (احمقانہ) سوال کیوں پوچھ رہے ہیں؟ یہ کوئی کلب کی ٹیم تھوڑے ہی ہے کہ ایک میچ ہار گئے تو اِسے بلا لو یا اُسے بلا لو۔‘

انضمام کی سادگی کی بھی تعریف ہوئی ہے لیکن سب سے زیادہ ان کی کپتانی کی۔ اور خاص طور پر جب سورو کی کپتانی کا ذکر آتا ہے تو ان کی مثال ضرور دی جاتی ہے۔

News image
سیریز میں صحافیوں کا سامنا کرنے کی ذمہ داری زیادہ تر یونس خان کے کاندھوں پر رہی

ایک طرف سورو ہیں، اپنے بیٹنگ فارم میں ہی الجھے ہوئے ہیں، ان کے پاس کپتانی کی باریکیوں پر غور کرنےکے لیے وقت کہاں ہے۔ادھر انضمام کو دیکھیے، وہ پیچھے سے نہیں آگے سے ٹیم کی قیادت کرتے ہیں۔ جب احمدآباد میں مڈل آرڈر ناکام ہورہا تھا، تو وہ مضبوطی سے ڈٹے رہے اور کسی بھی مرحلے پر گھبراہٹ کا تاثر نہیں دیا۔‘

یہی نہیں، جب وشاکھاپٹنم میں رن آؤٹ ہونے کےبعد انضمان نے بھّنا کر عبدالرزاق سے کچھ کہا، تو اخبارات نے لکھا کہ انضمام اب اپنے جذبات زیادہ کھل کر دکھاتے ہیں۔ یہ ان کے کھیل کے لیے بہتر ہی ثابت ہو سکتا ہے۔

انضمام میدان پر خوشی کا بھی کھل کر اظہار کرنے لگے ہیں جس سےمعلوم ہوتا ہے کہ کھیل میں انہیں کتنا مزا آرہا ہے۔ لیکن شاید سب سے زیادہ تعریف ان کی ایک نوجوان اور ناتجربہ کار ٹیم کو ایک ’فائٹنگ یونٹ‘ یعنی ایک ایسی پراعتماد ٹیم میں تبدیل کر نے پر ہوئی ہے جو آسانی سے ہار نہیں مانتی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد