BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 March, 2005, 17:32 GMT 22:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافیوں کے لیے نامناسب سہولتیں

انضمام الحق
بنگلور میں سکور تو بن گئے لیکن پریس بکس میں سہولتیں میسر نہ ہوئیں
پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ سیریز کی کوریج کے لئے جب بھارت یاترا کا ارادہ ظاہر کیا تھا تو یہ بتایا گیا کہ ماضی میں میدانوں پر ناکافی سہولتوں کے سبب کوریج بہت مشکل ہوا کرتی تھی لیکن اب عصرحاضر کے تمام تقاضوں سے ہم آہنگ فون اور انٹرنیٹ کی بہترین سہولتیں وہاں آپ کی منتظر ہونگی اور رابطے کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ لیکن موہالی کولکتہ اور بنگلور کے پریس باکس میں بروقت سہولتوں کی فراہمی میں ناکامی اور مقامی میڈیا افسران کے سرد رویئے دیکھ کر حیرت ہوئی کہ کرکٹ بخار میں مبتلا بھارتی اپنے اسٹیڈیمز میں میڈیا کو بروقت موثر سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

بھارت میں کرکٹ کی کوریج کرنے والے صجافیوں کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہر کرکٹ گراؤنڈ پر علیحدہ علیحدہ ایکریڈیشن کارڈز جاری ہوتے ہیں۔ کولکتہ میں بھارتی کرکٹ بورڈ کے جاری کردہ ایکریڈیشن کارڈز کی اہمیت اسوقت ختم ہوگئی جب مقامی کرکٹ ایسوسی ایشن نے میچ ٹکٹ صحافیوں کو تھما دیئےجنہیں دکھاکر اسٹیڈیم میں داخل ہوا جاسکتا تھا۔ مقامی صحافیوں نے یہ معاملہ آئی سی سی کے صدر احسان مانی کے سامنے بھی اٹھایا۔

ہر میچ سے قبل فون لائن کی سہولت فراہم کرنے کی درخواست کئے جانے کے باوجود یہ سہولت اسوقت فراہم کی جاتی رہی جب میچ شروع ہوچکا ہوتا تھا۔ دوسری اہم بات یہ کہ سہولتوں کے عوض زرِضمانت طلب کرنے میں ہر سینٹر پیش پیش ہے لیکن رقم کی فوری واپسی کا کوئی موثر طریقہ کار بھارتی کرکٹ بورڈ نے تلاش کرنے کی زحمت نہیں کی ہے۔ کیونکہ صحافیوں کو میچ کے فوراً بعد ان کی رقم واپس دیئے جانے کا کوئی تصور نہیں ہے۔

اس بارے میں بھارتی کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ ہر شہر کا اپنا ٹیلی فون ڈپارٹمنٹ اپنی مرضی کے مطابق رقم واپس کرے گا جس میں ہفتے اور مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔ مقامی صحافیوں کے لئے یہ کوئی مسئلہ نہ ہو لیکن غیرملکی صحافی رقم کے انتظار میں کیا بھارت میں ہی ٹھہرے رہیں گے؟

کولکتہ اور بنگلور میں پریس کانفرنس کے ہال پریس باکس سے بہت دور رکھے گئے ہیں۔

بنگلور کو آئی ٹی کا گڑھ کہا جاتا ہے لیکن تیسرے ٹیسٹ کے پہلے دن بھاری رقم کے عوض وائرلیس کنکشن کی فراہمی کے باوجود صحافیوں کے لیپ ٹاپ کام نہ کرسکے اور متعلقہ عملہ پورے دن کا کھیل ختم ہونے تک اس خامی اور خرابی کو دور کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔

آئی سی سی نے بین الاقوامی کرکٹ کو ایک ضابطہ اخلاق کے تحت کردیا ہے۔ ایک جیسے قوانین اور پلیئنگ کنڈیشن کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لئے نافذ کردی گئی ہیں۔ لیکن کیا میڈیا کو تکلیف سے آزاد بہتر کوریج کے لئے ایک ضابطہ اخلاق مرتب کرکے تمام کرکٹ بورڈز کو اس کا پابند نہیں کیا جاسکتا؟ کیا لارڈز، کیپ ٹاؤن، سڈنی اور لاہور جیسی میڈیا سہولتیں بھارت اور سری لنکا کے میدانوں میں فراہم کرنا بہت مشکل ہیں؟

بھارتی کرکٹ بورڈ دنیا کا امیر ترین کرکٹ بورڈ ہے لیکن اسٹیڈیمز کے ظاہری حسن پر خرچ ضرور ہوتا ہے لیکن بہترین اور سب سے اہم بات بروقت سہولتوں سے مزین پریس باکس کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب بھارتی کرکٹ بورڈ میڈیا کو دی جانے والی سہولتوں کے معاملات مقامی ایسوسی ایشنز پر چھوڑنے کے بجائے اپنے ہاتھ میں لے لے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ سیریز کی کوریج کےدوران بھارتی صحافیوں کے یہ ریمارکس اپنی جگہ بہت اہم تھے کہ گزشتہ سال جب وہ بھارتی ٹیم کے ساتھ پاکستان آئے تھے تو انہیں جو میڈیا سہولتیں فراہم کی گئی تھیں بھارت میں ان کا سوچا بھی نہیں جاسکتا۔

نوجوان انضمام سفر آسان نہیں ہے
انضمام کے بائیس سالہ کرکٹ کیریئر پر ایک نظر
یونس خان’یہ سنچری خاص ہے‘
اصل پریشر خراب فیلڈنگ کا تھا: یونس خان
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد