حوصلے بلند ہیں: انضمام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
موہالی ٹیسٹ کو باوقار انداز میں ڈرا کرکے پاکستانی ٹیم اب کولکتہ کےایڈن گارڈنز میں بھارتی ٹیم کےمدِ مقابل ہوگی۔ تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا دوسرا ٹیسٹ بدھ سے شروع ہو رہا ہے ۔ کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ یہ ایک نیا ٹیسٹ ہے جس میں انہیں سب کچھ نئے سرے سے شروع کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موہالی ٹیسٹ کو مشکل حالات میں بچا کر ڈرا پر ختم کرنے سے ان کے کھلاڑیوں کے حوصلے بہت بلند ہوئے ہیں اور وہ کولکتہ ٹیسٹ میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ انضمام الحق کہتے ہیں کہ کولکتہ ٹیسٹ میں بھی بھارتی ٹیم فیورٹ ہوگی لیکن اسے پاکستانی ٹیم کی صلاحیتوں کا بھی اندازہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستانی ٹیم مشکل حالات میں میچ بچا سکتی ہے تو اس میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ میچ جیت بھی سکتی ہے۔ کوچ باب وولمر کا کہنا ہے کہ یہ پہلا قدم ہے کہ کھلاڑیوں نے اپنے کھیل میں پختگی دکھائی ہے اور اس سے ان کی سوچ میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔ کولکتہ ٹیسٹ کے لئے پاکستانی ٹیم میں سلمان بٹ کی جگہ شاہد آفریدی اور رانا نویدالحسن کی جگہ آف اسپنر ارشد خان کی شمولیت متوقع ہے۔
موہالی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں مایوس کن بیٹنگ اور فیلڈنگ میں بھی خراب کارکردگی کے بعد نائب کپتان یونس خان کی جگہ بھی خطرے میں ہے اور ہوسکتا ہے کہ انہیں ڈراپ کرکے یاسرحمید کو موقع دیا جائے۔ بھارتی ٹیم میں واحد تبدیلی ہربھجن سنگھ کی عرفان پٹھان یا ظہیرخان کی جگہ شمولیت کی صورت میں ہوگی۔ ایڈن گارڈنز کی وکٹ تیار کرنے والے کیوریٹر پروبر مکھرجی کا کہنا ہے کہ یہ سپورٹنگ وکٹ ہے جس پر بیٹسمین اور بولرز دونوں کو مدد ملے گی ۔ یہ پانچ دن کی آئیڈیل ٹیسٹ وکٹ ہے۔ سترہ سال سے وکٹ کی تیاری پر مامور پروبر مکھرجی کہتے ہیں کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ تماشائی میچ کا لطف اٹھائیں اور کرکٹ کو دھوکہ نہ دیا جائے۔ یہ کوالٹی بولر پر منحصر ہے کہ وہ وکٹ پر پڑنے والے رف پیچز سے کتنا فائدہ اٹھاتا ہے۔ ایڈن گارڈنز میں کھیلے گئے آخری سات میں سے چھ ٹیسٹ میچز نتیجہ خیز ثابت ہوئے ہیں ان میں1999ء میں پاکستانی ٹیم کی وہ جیت بھی شامل ہے جو اس نے مشتعل تماشائیوں سے اس اسٹیڈیم کو خالی کرائے جانے کے بعد حاصل کی تھی۔ ایڈن گارڈنز سے پاکستانی ٹیم کی خِوشگواریادیں بھی وابستہ ہیں۔ یہاں اس نے نہرو کپ کا فائنل بھی جیتا ہے اور سلیم ملک کی طوفانی بیٹنگ کے ذریعے بھارت کو شکست بھی دی ہے۔ حال ہی میں سلمان بٹ کی شاندار سنچری کی مدد سے بھی پاکستانی ٹیم بھارت کو شکست دے چکی ہے۔ کولکتہ ٹیسٹ ویسٹ انڈین امپائر اسٹیوبکنر کے لئے یادگار اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ان کا100 واں ٹیسٹ میچ ہے وہ یہ سنگ میل عبور کرنے والے پہلے امپائر ہیں۔ اس میچ میں ان کے ساتھی امپائر آسٹریلیا کے ڈیرل ہیئر ہیں۔ یہ ٹیسٹ بھارتی ماسٹر بیٹسمین سچن تندولکر کے لیے بھی یادگار ہو سکتا ہے کیونکہ ان کو ٹیسٹ کرکٹ میں دس ہزار رنز مکمل کرنے کے لئے صرف ستائیس رنز درکار ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||