کوچ بننا انڈین سیریز سے مشروط | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہر یار خان کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم کے لیے وقار یونس کو بالنگ کوچ بنانے کا فیصلہ انڈین سیریز کے انعقاد سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک یہ طے نہیں ہو جاتا کہ بھارتی ہائی کورٹ کس ٹی وی چینل کے حق میں فیصلہ کرتی ہے اس وقت تک وقار یونس کی بطور بالنگ کوچ تقرری کا فیصلہ بھی ہم نہیں کریں گے۔ شہریار خان کا کہنا تھا کہ وقار یونس نے جو شرائط رکھیں ہیں وہ ان کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن بورڈ ان کو وہی معاوضہ دے سکتا ہے جس کا بورڈ متحمل ہو سکتاہے۔ شہر یار خان نے کہا کہ یہ وقار کے ساتھ ناانصافی ہو گی اگر بورڈ انہیں کہیں کہ وہ کمنٹری چھوڑ کر ٹیم کے ساتھ ہی کام کریں۔ ادھر وقار یونس جو کہ سابق کپتان فاسٹ بالر وسیم اکرم کی سپورٹس جوتوں اور کپڑوں کی دکان کے آج ہونے والی افتتاح پر موجود تھے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے کرکٹ بورڈ کو یہ پیشکش کی تھی کہ اگر مجھے بالنگ کوچ کا کام سونپا گیا تو وہ کمنٹری چھوڑ دیں گے۔ وقار یونس نے اس سوال پر کہ اگر انہیں صرف پاک بھارت سیریز ہی کے لیے بالنگ کوچ بنایا گیا تو ان کے لیے قابل قبول ہو گا تو وقار کا جواب نفی میں تھا۔ وقار یونس نے کہا کہ انہوں نے کرکٹ بورڈ کےسامنے اس کام کے معاوضے کی بابت کوئی مطالبہ نہیں رکھا۔ وسیم اکرم کی دکان کے افتتاح کی تقریب میں ماضی کے مایہ ناز فاسٹ بالر عمران خان بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وقار یونس کو بالنگ کوچ مقرر کیا گیا تو یہ ٹیم کے لیے فائدہ مند ہو گا۔ عمران خان کی رائے کی اہمیت اپنی جگہ لیکن یہ فائدہ تبھی حاصل ہو گا اگر کرکٹ بورڈ اور وقار یونس اس مسئلے میں لچک دکھائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||