دنیا کے گرد تنہا سفر کا نیا ریکارڈ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک برطانوی کشتی راں خاتون نے دنیا کے گرد انتہائی کم وقت میں تنہا بحری سفر کرنے کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ ایلن میک آرتھر نے یہ سفر نہ صرف تنہا مکمل کیا بلکہ انتہائی کم وقت میں سفر مکمل کرنے کا نیا ریکارڈ بھی قائم کیا۔ ایلن نے ستائیس ہزار میل کا یہ فاصلہ اکہتر دن اور تیرہ گھنٹے سے کچھ کم وقت میں عبور پورا کیا۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ ایک فرانسیسی خاتون فرانسِس کا تھا جنہوں نے دنیا کے گرد یہ بحری سفر تقریباً تہتّر روز میں مکمل کیا تھا۔ اٹھائیس سالہ ایلن نے سفر کے اختتام پر کہا کہ انہیں یقین نہیں آ رہا کہ انہوں نے یہ معرکہ سر کر لیا ہے۔ ایلن نے گرنچ وقت کے مطابق پیر کو رات ساڑھے دس بجے اپنی مہم کی تکمیل کی۔ ان کے اس سفر کے بالکل درست وقت کا تعین اور تصدیق ورلڈ سیلنگ سپیڈ ریکارڈ کونسل بعد میں کرے گی۔ جب وہ سفر کی تکمیل پر اپنی کشی سے اتر کر رپورٹروں کے درمیان آئیں تو انہوں نے کہا کہ اس سفر کے اختتام کی سو سے اچھی بات یہ ہے کہ وہ ایک بار پھر لوگوں کے درمیان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دوران وہ ان لوگوں کی ای میل پڑھ کر بار بار رو پڑتی تھیں جو اس سفر کو مکمل کرنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ جب وہ انگلینڈ کے جنوب مغربی ساحل پر لنگر انداز ہوئیں تو ان کا ایک ہیروئن کی طرح استقبال کیا گیا۔ یہ تاریخی مہم سر انجام دینے پر ملکہ نے بھی انھیں مبارک باد دی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||