پانچ اوپنر مگر اننگز وکٹ کیپر سے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا میں ہونے والی سہ فریقی ون ڈے سیریز میں وکٹ کیپر کامران اکمل کو اوپنر کی حیثیت سے کھلانے کے کپتان انضمام الحق اور کوچ باب وولمر کے فیصلے پر پاکستانی کرکٹ حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس فیصلے پر تنقید کرنے والوں میں چیف سلیکٹر وسیم باری بھی شامل ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اس وقت پاکستانی ٹیم میں پانچ اوپنرز سلمان بٹ، یاسرحمید، توفیق عمر، محمد حفیظ اور شاہد آفریدی موجود ہیں لیکن آسٹریلیا کے خلاف سلمان بٹ کے ساتھ اننگز کے آغاز کے لیے وکٹ کیپر کامران اکمل کا انتخاب کیا گیا حالانکہ انضمام الحق اور باب وولمر ہی کی خواہش کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے سلیکشن کمیٹی نے توفیق عمر اور محمد حفیظ کو آسٹریلیا بھیجا ہے۔ چیف سلیکٹر وسیم باری کامران اکمل کو اوپنر کھلانے کے فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فیصلہ ٹیم منیجمنٹ کا ہے لیکن ان کے خیال میں کامران اکمل کو اوپنر کھلانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی بلکہ محمد حفیظ کو اوپنر کھلانا چاہیئے تھا۔ وسیم باری اس تجویز کے پرزور حامی ہیں کہ حتمی گیارہ کھلاڑیوں کا انتخاب بھی سلیکٹرز کو کرنا چاہیئے جیسا کہ کئی دوسرے ممالک میں ہوتا ہے لیکن جب ان سے اس بارے میں پوچھا جاتا ہے کہ کیا سلیکٹرز کے منتخب کردہ کھلاڑی پر کپتان کا عدم اعتماد سلیکشن کمیٹی پر عدم اعتماد کے مترادف نہیں تو وہ خاموش ہوجاتے ہیں۔ کپتان انضمام الحق اور کوچ باب وولمر نے وسیم باری کے کئی فیصلوں کو چیلنج کیا ہے لیکن بقول مبصرین سلیکشن کمیٹی خاموش تماشائی بنی دیکھتی رہی ہے مثلا زمبابوے کے خلاف ون ڈے میچ کے لیے ٹیم منیجمنٹ نے معین خان کے ان فٹ ہونے پر کامران اکمل کی درخواست کی تھی جو پوری کردی گئی لیکن کپتان نے ریگولر وکٹ کیپر کے بجائے نان ریگولر وکٹ کیپر یونس خان کو پشاور کے ون ڈے میں وکٹ کیپنگ کرا دی۔ سلیکشن کمیٹی نے خراب کارکردگی پر یاسرحمید کو کولکتہ میں بھارت کے خلاف ون ڈے کھیلنے والی ٹیم سے ڈراپ کردیا لیکن انضمام الحق نے وسیم باری کے اس موقف کو کہ انہیں فارم میں نہ ہونے کے سبب ڈراپ کیا گیا ہے یہ کہہ کر رد کردیا کہ یاسرحمید کو ڈراپ نہیں کیا گیا بلکہ آرام دیا گیا ہے۔ آسٹریلیا کے دورے سے قبل کپتان عاصم کمال کو ٹیم میں شامل کرنے کے لیے بمشکل تیار ہوئے جبکہ ٹیسٹ سیریز میں غیرمعمولی کارکردگی کے باوجود دانش کنیریا کو ون ڈے اسکواڈ میں رکھنے کے بجائے وطن واپس بھیج دیا گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کوچ باب وولمر نے آسٹریلیا میں کامران اکمل کی بہتر کارکردگی کے باوجود ون ڈے اسکواڈ میں دو وکٹ کیپر رکھتے ہوئے معین خان کی شمولیت کے لیے کہا تھا جس پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔ پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز کا خیال ہے کہ پاکستانی ٹیم کو غیرضروری تجربات کی بھینٹ چڑھادیا گیا ہے جس کے ذمہ دار کوچ باب وولمر ہیں۔ سابق چیف سلیکٹر اور ماضی کے کامیاب تجربہ کار اوپننگ بیٹسمین عامر سہیل کا کہنا ہے کہ عمران فرحت اور توفیق عمر کی جوڑی ٹیسٹ جبکہ عمران فرحت اور یاسرحمید کی جوڑی ون ڈے میں سیٹ ہوچکی تھی لیکن انہیں تجربات کی نذر کردیا گیا۔ پاکستانی ٹیم کی شکست کی وجہ کمزور قیادت اور غیرضروری تجربات ہیں۔ عامر سہیل حیران ہیں کہ پانچ اوپنرز کی موجودگی میں کامران اکمل سے اننگز شروع کرائی گئی۔ ایک اور سابق چیف سلیکٹر صلاح الدین صلو کے خیال میں باب وولمر کا ون مین شو پاکستانی ٹیم کو لے ڈوب رہا ہے جو نہ کپتان کو خاطر میں لاتے ہیں نہ ہی سلیکٹرز کو اہمیت دے رہے ہیں۔ صلاح الدین صلو کا کہنا ہے کہ باب وولمر کے دور میں جنوبی افریقہ نے کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھائی اب وہ پاکستانی ٹیم کو اپنے تجربات کی بھینٹ چڑھارہے ہیں۔ وہ ابھی تک پاکستانی ٹیم کا کامبی نیشن ہی تشکیل نہیں دے پائے ہیں۔ صلاح الدین صلو کا کہنا ہے کہ سلیکشن کمیٹی کو اپنی قوت منوانی ہوگی لیکن ابھی تک وہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ٹیم کے حتمی گیارہ یہاں تک کہ بارہویں کھلاڑی کے انتخاب کا حق مکمل طور پر سلیکٹرز کو ملنا چاہیئے کیونکہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ کپتان پسند ناپسند کی بنیاد پر کھلاڑی کو کھلاتا ہے۔ سلیکشن کمیٹی کے ایک اور سابق چیئرمین حسیب احسن نے بھی باب وولمر کی کوچنگ اور انضمام الحق کی قائدانہ صلاحیت پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے عدم اطمینان ظاہر کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹیم کو مسلسل شکست کا سامنا کرنے کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کپتان اور کوچ پر اعتماد ظاہر کر چکے ہیں جبکہ کوچ باب وولمر اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو یہ کہہ کر مسترد کرتے آئے ہیں کہ اس کا مقصد ٹیم کے مورال کو نقصان پہنچانا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||