BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 January, 2005, 21:42 GMT 02:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہریار مستعفی ہونے پر آمادہ

شہر یار خان
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہر یار خان کو آخر یہ کہنا ہی پڑا کہ اگر وہ تیس اپریل تک پاکستان کرکٹ بورڈ کا آئین پیش نہیں کر پائے تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔

یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب سینیٹ کی سپورٹس کی سٹیڈنگ کمیٹی کے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ پانچویں اور آخری اجلاس میں سینیٹر انور بیگ نے انتہائی سخت لہجے میں کہا کہ شہر یار خان نے پاکستان کرکٹ بورڈ کا نیا آئین دینے کی بار بار تاریخ دی لیکن کسی بھی مقررہ تاریخ کو وہ آئین نہ دے پائے اور اب تیس اپریل کی جو نئی تاریخ دی گئی ہے اس پر بھی انہیں یقین ہے کہ آئین تیار نہیں ہو گا۔

انور بیگ کے بار بار پوچھنے پر کہ اگر شہر یار خان اگر آپ مقررہ تاریخ تک آئین نہ دے سکے تو کیا آپ استعفی دے دیں گے۔ شہر یار خان کو زچ ہو کر کہنا پڑا کہ ہاں اگر تیس اپریل تک آئین نہ بن سکا تو وہ استعفی دے دیں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا آئین گزشتہ کئی برس سے معطل ہے اور نیا آئین دینے کا اپنا وعدہ گزشتہ چیئرمین لیفٹیننٹ جنرنل ریٹائرڈ توقیر ضیاء نے بھی پورا نہیں کیا تھا۔

سینیٹ کی سٹیڈنگ کمیٹی برائے کھیل نے پاک بھارت کرکٹ سیریز میں پاکستان ٹیم کی شکست اور اس سیریز کے دوران ہونے والی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے یہ اجلاس بلانے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

آج ہونے والا اجلاس اس سلسلے کا آخری اجلاس تھا اس اجلاس میں چار خواتین سینیٹرز سمیت نو سینیٹرز نے شرکت کی۔ اس کمیٹی کے چئرمین سینیٹر ظفر اقبال چوہدری ہیں۔وزیر کھیل اجمل خان بھی اس کمیٹی کے رکن ہیں وہ بھی اس اجلاس میں موجود تھے۔

پاکستان ٹیم کے سابق کپتان ماجد خان کو بھی خصوصی طور پر اس اجلاس میں بلایا گیا تھا۔

اجلاس کے آغاز میں پی سی بی کے چیئرمین نے ٹیم کی بھارت کے خلاف اور اب آسٹریلیا کے خلاف بری کارکردگی کی وجوہات پر روشنی ڈالی اور پاکستان میں کرکٹ کے نظام کو بہتر کرنے میں بورڈ کا کوششوں اور ارادوں کا ذکر کیا۔

انہوں نے مالی بے ضابطگیوں کے الزامات فری ٹکٹ سکینڈل اور باب وولمر کی تقرری پر اٹھنے والے سوالات کے جواب دیے اور کہا کہ باب وولمر صحیح خطوط پر ٹیم کی تربیت کر رہے ہیں اور اس کا نتیجہ فوری سامنے نہیں آئے گا اس کے اچھے اثرات دو سال تک نظر آئیں گے۔

ماجد خان نےملک میں کرکٹ کے گرتے ہوئے معیار اور ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے عوامل پر روشنی ڈالی اور سلیکشن کمیٹی کے ٹیم کے انتخاب پر تنقید کی اور نظام کو بہتر کرنے کے لیے تجاویز دیں۔ بعد ازاں وفاقی وزیر کھیل اجمل خان نے کہا کہ کرکٹ بورڈ میں وزارت کھیل کا ایک نمائندہ ہونا چاہیے۔

اس سے پہلے بھی
پاکستان کرکٹ بورڈ کا آئین گزشتہ کئی برس سے معطل ہے اور نیا آئین دینے کا اپنا وعدہ گزشتہ چیئرمین لیفٹیننٹ جنرنل ریٹائرڈ توقیر ضیاء نے بھی پورا نہیں کیا تھا۔

اس سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر ظفر اقبال نے کہا کہ یہ کرکٹ بورڈ کے ساتھ ان کا آخری اجلاس تھا اور وہ نہیں سمجھتے کہ کرکٹ بورڈ نے پاک بھارت سیریز کے دوران کوئی مالی بے ضابطگیاں کیں ہیں اور غیر جانبدار آڈٹ ادارے کی رپورٹ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے البتہ کچھ غلطیاں ہوئی ہیں جو آئندہ نہیں ہوں گی اور ٹیم کی کارکردگی کا ذمہ دار بورڈ نہیں ہے۔

سینیٹر ظفر اقبال نے کہا کہ بورڈ کو چاہیے کہ ماضی کے بڑے کھلاڑیوں کی ایک کمیٹی بنائے جو بورڈ کو گاہے گاہے مشورے دیا کرے۔

انہوں نے کہا کہ کرکٹ بورڈ کے ساتھ ان اجلاسوں کے بعد وہ اپنی رپورٹ تیار کریں گے اور اسے عوام کے سامنے لایا جائے گا۔

سینیٹر ظفر اقبال کے بر عکس سینیٹر انور بیگ کا موقف باکل مختلف تھا اور ان کے بقول بورڈ ان کے تمام سوالوں کا تسلی بخش جواب فراہم نہیں کر سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ بورڈ کا نظام ان لوگوں کے پاس ہونا چاھیے جو کرکٹ پر پوری دسترس رکھتے ہوں نہ کہ بیورو کریٹس اور پرانے سفارت کاروں کے پاس۔

انور بیگ نے اجلاس کے بعد بی بی سی کو بتایا کہ انہیں اب بھی یقین ہے کہ شہر یار وقت پر آئین نہیں ديں گے۔انہوں نے کہا کہ شہر یار خان کی موجودگی میں کرکٹ میں کوئی بہتری نہیں ہوسکتی۔

سینیٹ کی یہ سٹیڈنگ کمیٹی برائے کھیل پندرہ جنوری کو ہاکی فیڈریشن کے اہلکاروں کے ساتھ بھی ایک میٹنگ کر رہی ہے، جس میں ہاکی ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد